உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جاوید اختر کے بعد اب دگوجے سنگھ نے آر ایس ایس کا کیا افغانستان کے اقتدار پر قابض طالبان سے موازنہ

    دگوجے سنگھ نے آر ایس ایس کا موازنہ افغانستان میں اقتدار پر قابض ہوئے طالبان سے کیا ہے۔

    دگوجے سنگھ نے آر ایس ایس کا موازنہ افغانستان میں اقتدار پر قابض ہوئے طالبان سے کیا ہے۔

    Digvijay Singh on RSS: کانگریس کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ نے کہا، ’کیا طالبان اور آر ایس ایس کے درمیان کام کرنے والی خواتین کو لے کر مماثلت ہیں؟ ایسا ہی لگتا ہے، جب تک موہن بھاگوت اور طالبان اپنے خیالات نہیں بدلتے‘۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس (Congress) کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ نے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا موازنہ افغانستان (Afghanistan) کے اقتدار پر قابض ہوئے طالبان سے کی ہے۔ ایک ہفتے میں یہ دوسری بار ہے، جب آرایس ایس کا موازنہ طالبان سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کے پرانے بیانات پر تبصرہ کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شادی معاہدہ ہے۔ اس کے تحت خواتین گھر کی دیکھ بھال اور دیگر چیزوں کا خیال رکھتی ہیں۔ جبکہ مرد کے پاس کام کرنے اور خواتین کے تحفظ کا ذمہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں نغمہ نگار جاوید اختر نے بھی موازنہ کرنے والا تبصرہ کیا تھا۔

      دگوجے سنگھ نے کہا، ’کیا طالبان اور آر ایس ایس کے درمیان کام کرنے والی خواتین کو لے کر مماثلت ہیں؟ ایسا ہی لگتا ہے، جب تک موہن بھاگوت اور طالبان اپنے خیالات نہیں بدلتے‘۔ اسی ہفتے کانگریس لیڈر نے الزام لگائے تھے کہ آر ایس ایس جھوٹ اور غلط فہمیاں پھیلا کر ہندووں اور مسلمانوں کو تقسیم کر رہا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ہندو - مسلم کا ڈی این اے ایک ہے، کے بیان پر انہوں نے پوچھا، ’اگر ایسا ہے، تو لو جہاد جیسے موضوع کیوں اٹھ رہے ہیں؟

      جاوید اختر نے کہا تھا، ’جیسے طالبان اسلامک اسٹیٹ چاہتا ہے، ویسے ہی کچھ لوگ ہیں، جو ہندو راشٹر چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی ذہنیت بھی ویسی ہی ہے۔ چاہے مسلم ہوں، عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا ہندو ہوں‘۔
      جاوید اختر نے کہا تھا، ’جیسے طالبان اسلامک اسٹیٹ چاہتا ہے، ویسے ہی کچھ لوگ ہیں، جو ہندو راشٹر چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی ذہنیت بھی ویسی ہی ہے۔ چاہے مسلم ہوں، عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا ہندو ہوں‘۔


      سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ، نغمہ نگار جاوید اختر کے بچاو میں اترے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی آئین شخص کو اظہار کو آزادی دیتا ہے۔ منگل کو صحافیوں سے بت چیت کے دوران انہوں نے کہا تھا، ’مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے ایسا کس ضمن میں کہا تھا، لیکن ہمارے آئین نے ہمیں اپنی بات ظاہر کرنے کا اختیار دیا ہے‘۔ نغمہ نگار جاوید اختر نے تین ستمبر کو ایک ٹی وی پروگرام کے دوران طالبان کا موازنہ آر ایس ایس سے کیا تھا۔

      جاوید اختر نے کہا تھا، ’جیسے طالبان اسلامک اسٹیٹ چاہتا ہے، ویسے ہی کچھ لوگ ہیں، جو ہندو راشٹر چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی ذہنیت بھی ویسی ہی ہے۔ چاہے مسلم ہوں، عیسائی ہوں، یہودی ہوں یا ہندو ہوں‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’بالکل، طالبان ظالم ہے اور ان کے کام قابل مذمت ہیں، لیکن جو لوگ آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی حمایت کرتے ہیں، وہ بھی ویسے ہی ہیں‘۔ جاوید اختر نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں ’اوسط ہندوستانی کی بنیادی حساسیت پر مکمل بھروسہ ہے‘۔ انہوں نے کہا تھا، ’اس ملک میں بیشتر لوگ بہت شائستہ اور بردبار ہیں۔ اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ہندوستان کبھی بھی طالبانی ملک نہیں بنے گا‘۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: