ہیوسٹن میں پی ایم مودی:5ملین ٹن ایل این جی کے شعبہ میں سرمایہ کی مشغولی کا معاہدہ

، ہندوستان اور امریکہ نے ٹیلوریئن اور پیٹرونیٹ کے ساتھ لیکویفائیڈ نیچرل گیس(ایل این جی) کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک کے مابین پانچ ٹن ایل این جی کے لئے ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ ٹیلوریئن اور پیٹرونیٹ نے مارچ 2020 تک لین دین کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کانشانہ مقرر کیا ہے۔

Sep 22, 2019 10:06 AM IST | Updated on: Sep 22, 2019 10:11 AM IST
ہیوسٹن میں پی ایم مودی:5ملین ٹن ایل این جی کے شعبہ میں سرمایہ کی مشغولی کا معاہدہ

ہیوسٹن میں پی ایم مودی:5ملین ٹن ایل این جی کے شعبہ میں سرمایہ کی مشغولی کا معاہدہ۔(تصویر:نریندرمودی، ٹویٹر)۔

وزیراعظم نریندرمودیا آ ج'ہاوڈی مودی'سے خطاب کرینگے۔کل پی ایم مودی کی آمد پرہندوستانی شہریوں کی جانب سے انکا والہانہ استقبال کیاگیا۔وزیراعظم مودی نے ہیوسٹن پہنچنے کے بعد انرجی سیکٹر سے جڑے کمپنیوں کے سی ای اوز سے ملاقات کی، اس اجلاس ہندوستان اور امریکہ کے مابین توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پرغور کیاگیا۔

 

اس اجلاس کے دوران ، ہندوستان اور امریکہ نے ٹیلوریئن اور پیٹرونیٹ کے ساتھ لیکویفائیڈ نیچرل گیس(ایل این جی) کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ دونوں ممالک کے مابین پانچ ٹن ایل این جی کے لئے ایم او یو پر دستخط ہوئے۔ ٹیلوریئن اور پیٹرونیٹ نے مارچ 2020 تک لین دین کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کانشانہ مقرر کیا ہے۔ اس میٹنگ میں تقریباً 16 کمپنیوں کے سی ای او نے شرکت کی  

 

اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاوڈی مودی پروگرام کے لئے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکی صدر کسی ہندوستانی وزیر اعظم کے پروگرام میں شریک ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس نے پہلے ہی یہ صاف کردیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ میں اسٹیج کا شیئرکریں گے۔ پروگرام'ہوڈی مودی میں پی ایم مودی 50 ہزار سے زیادہ ہندوستانی نژادامریکی شہریوں سے خطاب کریں گے۔

وزیراعظم مودی 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

ہیوسٹن کے بعد، مودی نیویارک جائیں گے ، جہاں وہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔ مودی منگل کو ٹرمپ سے نیویارک میں ملاقات کریں گے۔ گذشتہ چار ماہ میں یہ دونوں رہنماؤں کی چوتھی ملاقات ہوگی۔ توقع ہے کہ نیویارک کا اجلاس مستقبل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کی سمت طے کرے گا۔ دونوں رہنماؤں سے متعدد باہمی ، علاقائی اورعالمی امورپربات چیت کی توقع کی جارہی ہے، جس میں بڑھتے ہوئے دو طرفہ تجارتی تنازعہ ، دفاع اور توانائی کے معاہدے اور افغانستان میں امن عمل کے حل کی کوششیں شامل ہیں۔

 

Loading...