ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

زرعی قانون: وزیر اعظم مودی کے بلاوے پر کسانوں نے کہا- بات چیت کو تیار، حکومت بتائے تاریخ

مرکز کے تین زرعی قوانین (New Farm Laws) کے خلاف دہلی بارڈر (Delhi Border) پر گزشتہ نومبر سے احتجاج کر رہے کسان تنظیموں (Farmers Union) نے بات چیت کے لئے حکومت سے تاریخ طے کرنے کو کہا ہے۔

  • Share this:
زرعی قانون: وزیر اعظم مودی کے بلاوے پر کسانوں نے کہا- بات چیت کو تیار، حکومت بتائے تاریخ
وزیر اعظم مودی کے بلاوے پر کسانوں نے کہا- بات چیت کو تیار، حکومت بتائے تاریخ

نئی دہلی: مرکز کے تین زرعی قوانین (New Farm Laws) کے خلاف دہلی بارڈر (Delhi Border) پر گزشتہ نومبر سے احتجاج کر رہے کسان تنظیموں (Farmers Union) نے بات چیت کے لئے حکومت سے تاریخ طے کرنے کو کہا ہے۔ دراصل پیر کو راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نے کسانوں سے آندولن ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعطل کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے۔ وزیر اعظم کے خطاب کے بعد کسانوں سے تاریخ طے کرنے کو کہا ہے۔ حالانکہ کسان تنظیموں نے وزیر اعظم مودی کے اس تبصرہ پر اعتراض کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرین کی ایک نئی جماعت پیدا ہوگئی ہے، جسے آندولن جیوی کہا جاتا ہے۔ کسان تنظیموں نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاجی مظاہرہ کا کردار بے حد اہم ہے۔


مشترکہ کسان مورچہ کے سینئر لیڈر شیو کمار ککا نے کہا کہ کسان تنظیمیں اگلے راونڈ کی بات چیت کے لئے تیار ہیں اور حکومت کو انہیں بات چیت کے لئے تاریخ اور وقت کے بارے میں مطلع کرنا چاہئے۔ شیو کمار ککا نے پی ٹی آئی سے کہا، ’حکومت کے ساتھ بات چیت سے ہم نے کبھی انکار نہیں کیا، جب کبھی ہمیں بات چیت کے لئے بلایا گیا۔ ہم نے مرکزی وزرا کے ساتھ بات چیت کی۔ ہم حکومت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں’۔ کسانوں کے ساتھ 11 ویں دور کی بات چیت میں مرکزی حکومت نے تین نئے زرعی قوانین کو 12 سے 18 ماہ کے لئے ملتوی کرنے کی تجویز رکھی تھی، لیکن کسانوں نے اسے مسترد کردیا۔ دہلی سے متصل سنگھو، ٹکری اور غازی پور بارڈر پر ہزاروں کی تعداد میں پنجاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش کے ہزاروں کسان گزشتہ نومبر سے احتجاج کر رہے ہیں۔


وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک اب آزادی کے 75 ویں سال میں داخل ہورہا ہے۔ ایسے میں ہر کسی کی توجہ ملک کی جانب کچھ کرنے کیلئے ہونی چاہئے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک اب آزادی کے 75 ویں سال میں داخل ہورہا ہے۔ ایسے میں ہر کسی کی توجہ ملک کی جانب کچھ کرنے کیلئے ہونی چاہئے۔


راجیہ سبھا میں اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، میں صدر جمہوریہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنے کیلئے آپ کے درمیان کھڑا ہوں۔ اراکین نے اپنے بیش قیمتی خیالات پیش کئے ہیں ، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اچھا ہوتا کہ صدر جمہوریہ کا خطاب سننے کیلئے سب ہوتے تو جمہوریت کا وقار بڑھ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں تقریبا 14-13 گھنٹوں تک 50 سے زیادہ اراکین نے اپنے خیالات ظاہر کئے، اس لئے میں سبھی اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا سخت چیلنجز سے جوجھ رہی ہے ۔ شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ انسانیت کو ایسے مشکل دور سے گزرنا ہوگا ۔ ایسے مشکل چیلنجز کے درمیان اس دہائی کے آغاز میں صدر جمہوریہ کا خطاب اپنے آپ میں نئی امید ، امنگ اور خود اعتمادی پیدا کرنے والا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک اب آزادی کے 75 ویں سال میں داخل ہورہا ہے۔ ایسے میں ہر کسی کی توجہ ملک کی جانب کچھ کرنے کیلئے ہونی چاہئے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بحران کے وقت میں دنیا کی نظر ہندوستان پر ٹکی ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے اس دوران میتھلی شرن گپت کی کویتا 'اوسر تیرے لئے کھڑا ہے ، پھر بھی تو چپ چاپ پڑا ہے' بھی ایوان میں پڑھی۔ وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مخالفت کرنے کیلئے بہت سارے ایشوز ہیں ، مخالفت کرنی بھی چاہئے، لیکن ایسی باتوں میں نہیں الجھنا چاہئے جس سے ملک کا حوصلہ پست ہوتا ہو ۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس ایوان میں جمہوریت کو لے کر کئی باتیں کہی گئیں ۔ ہندوستان کی جمہوریت ایسی نہیں ہے کہ جس کی اس طرح کھال ادھیڑی جاسکے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب کے دوران ٹی ایم سی کے رکن ڈیریک او براین پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جن الفاظ کا وہ استعمال کررہے ہیں اس کو سننے کے بعد ایسا لگا کہ وہ بنگال کی بات کررہے ہیں یا ملک کی۔ وزیر اعظم مودی نے زرعی قوانین کو لے کر کہا کہ کھیتی کی بنیادی ضرورت کیا ہے ۔ انہوں نے چودھری چرن سنگھ کی بات بتاتے ہوئے کہا کہ 33 فیصدی کسان ایسے ہیں جن کے پاس زمین دو بیگھے سے کم ہے ، 18 فیصدی جو کسان کہلاتے ہیں ان کے پاس دو سے چار بیگھے زمین ہے ۔ یہ کتنی بھی محنت کرلیں ، اپنی زمین پر ان کا گزر نہیں ہوسکتا ہے ۔ موجودہ وقت میں جن کے پاس ایک ہیکٹیئر سے کم زمین ہے وہ 68 فیصدی کسان ہیں ۔ 86 فیصدی کسانوں کے پاس دو ہیکٹیئر سے بھی کم زمین ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے کسانوں کے بارے میں سوچیں
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 08, 2021 07:41 PM IST