உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رام مندر کے بعد بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ پر اکھاڑا پریشد نے پیش کیا اپنا دعویٰ

    رام مندر کے بعد بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ پر اکھاڑا پریشد نے پیش کیا اپنا دعویٰ

    رام مندر کے بعد بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ پر اکھاڑا پریشد نے پیش کیا اپنا دعویٰ

    اکھاڑا پریشد نے مسلمانوں کو بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ سے دست بردار ہونے کا مشورہ دیا ہے اور ان مساجد کو اپنی مرضی سے ہندوؤں کے حوالے کرنے کی اپیل کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    الہ آباد: ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہونے کے بعد اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے کاشی اورمتھرا کی مسجدوں پراپنا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔ اکھاڑا پریشد نے مسلمانوں کو بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید سے دست برادر ہونے کا مشورہ دیا ہے اور ان مساجد کو اپنی مرضی سے ہندوؤں کے حوالے کرنے کی اپیل کی ہے۔ اکھاڑا پریشد نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس مسئلے پر مسلمانوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اکھاڑا پریشد کے ہنگامی اجلاس میں یہ بھی طے پایا ہے کہ رام مندرکی طرح ہی کاشی اورمتھرا کے لئے عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

    ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہونے کے بعد اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے کاشی اورمتھرا کی مسجدوں پراپنا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔
    ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف ہونے کے بعد اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے کاشی اورمتھرا کی مسجدوں پراپنا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔


    الہ آباد کے باگھمبری مٹھ میں ہونے والے اکھاڑا پریشد کے ہنگامی اجلاس میں کل 8 قرار دادیں پاس کی گئیں، جس میں لو جہاد، مہاراشٹر میں سادھوؤں کے قتل کا معاملہ، بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ کو ہندوؤں کو سونپنے کی قرار دادیں شامل ہیں۔ اکھاڑا پریشد نے بنارس اور متھرا کی عید گاہ پر اپنا دعویٰ واضح طور پر پیش کر دیا ہے۔ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کا کہنا ہے کہ بنارس اورمتھرا کی مسجدیں مندر توڑکر بنائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنارس میں ہونے والی آثار قدیمہ کی کھدائی میں ایسے واضح ثبوت ملے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ گیان واپی مسجد مندرتوڑ کر بنائی گئی ہے۔

    اکھاڑا پریشد کے اجلاس میں پاس قرار دادوں پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر آشیش متل کا کہنا ہے کہ معاشی بد حالی، بے روزگاری اور کورونا وباء کی سنگین ہوتی صورتحال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے مقصد سے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو تھوپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر آشیش متل نے اکھاڑا پریشد پرفرقہ پرستی کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ اکھاڑا پریشد کی ہنگامی میٹنگ میں 13 اکھاڑوں کے نمائندو ں نے شرکت کی۔ اکھاڑا پریشد نے واضح کیا ہے کہ متھرا اور بنارس کی مساجد لئے جلد ہی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ تحریک رام مندر کی تحریک کے طرز پر چلائی جائے گی۔ اکھاڑا پریشد نے اس مسئلے پر وشو ہندو پریشد سے تعاون کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: