உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرناٹک: بی جے پی کو ملی بڑی کامیابی، انسداد گئوکشی بل اسمبلی کے بعد کونسل میں بھی منظور

    کرناٹک: انسداد گئوکشی بل اسمبلی کے بعد کونسل میں بھی منظور

    کرناٹک: انسداد گئوکشی بل اسمبلی کے بعد کونسل میں بھی منظور

    کرناٹک میں بی جے پی حکومت آخر کارگئو کشی پر پابندی عائد کرنے کے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوئی ہے۔ آج ریاست کی قانون ساز کونسل میں تین گھنٹے کی طویل بحث کے بعد صوتی ووٹ کے ذریعہ انسداد گئو کشی بل 2020 منظور ہوا ہے۔

    • Share this:
    بنگلورو: کرناٹک میں بی جے پی حکومت آخر کارگئو کشی پر پابندی عائد کرنے کے اپنے منصوبے میں کامیاب ہوئی ہے۔ آج ریاست کی قانون ساز کونسل میں تین گھنٹے کی طویل بحث کے بعد صوتی ووٹ کے ذریعہ انسداد گئو کشی بل 2020 منظور ہوا ہے۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کی پرزور مخالفت کے باوجود ہنگامہ آرائی کے درمیان بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کونسل کے نائب چیئرمین پرانیش نے اس بل کو منظوری دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بل کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے احتجاج کیا لیکن صوتی ووٹ کے ذریعہ بل کو منظور دی گئی۔اس کے بعد نائب چیئرمین نے کونسل کے اجلاس کو کل صبح 11 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔
    واضح رہے کہ انسداد گئو کشی بل 2020 قانون ساز اسمبلی کے پچھلے اجلاس میں منظور ہوچکا ہے۔ اسمبلی میں حکمراں جماعت بی جے پی کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب آسانی کے ساتھ بل منظور ہوا ۔ لیکن حیرت کی بات یہ  کونسل میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان کی کثیر تعداد رہنے کے باوجود دونوں پارٹیوں کو اس معاملے میں شکست ہوئی ہے۔ اس طرح ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گئو کشی پر پابندی کا سخت ترین قانون نافذ ہونے جارہا ہے ۔ انسداد گئو کشی بل میں مویشی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مویشی کے ذبیحہ پر روک لگانے کی بات کہی گئی۔ مویشی کی تعریف گائے اور گائے کی نسل سے جوڑے تمام جانور جس میں بیل، بھینس ، سانڈ، بچھڑا شامل ہیں۔ صرف 13 سال سے زائد عمر کے بھینس کے ذبیحہ کی اجازت دی گئی ہے۔
    اس نئے بل میں سزا کے سخت ترین دفعات شامل کئے گئے ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کم سے کم تین سال ، زیادہ سے زیادہ 7 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ جرمانہ کے لحاظ سے پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر 50 ہزار سے 5 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ، دوسری مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ سے 10 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ سال 2020 کے اواخر میں منعقد اسمبلی کے اجلاس میں یہ متنازعہ بل قانون ساز اسمبلی میں منظور ہوا تھا لیکن اس وقت کونسل میں یہ بل  منظور نہ ہوسکا۔  اس کے بعد حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ اس بل کو ریاست میں نافذ کیا ہے۔ اب کونسل میں منظوری کے بعد جلد ہی یہ بل مستقل قانون کی شکل میں نافذ ہوگا۔ تاہم اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
    کونسل میں انسداد گئو کشی بل پیش کرنے والے وزیر مویشی پالن پربھو چوہان نے کہا بل کی منظوری کا سہرا وزیر اعلی یدی یورپا کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون سے کسانوں کو نقصان نہیں ہوگا۔ ریاست میں 188 گئو شالا موجود ہیں۔ عمر دراز جانوروں کے سلسلے میں حکومت جلد ہی منصوبہ بنائے گی۔ بی جے پی حکومت کے سینئر وزیر آر اشوک نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ گئو کشی پر پابندی کی مخالفت کرتی ہوئی آرہی ہے۔ ایک طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آرہی ہے۔  آر اشوک نے کہا کہ آج ہم مہاتما گاندھی کے خواب کو حقیقت میں بدل دئے ہیں۔  ریاست کے وزیر داخلہ بسوراج بمئی نے کہا کہ گرو بسونا کے اصولوں کے مطابق ہم یہ قانون لائے ہیں۔
    اس سے قبل کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے کہا کہ حکومت کسانوں کی پرواہ کئے بغیر ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کیلئے اس طرح کا قانون نافذ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر دراز جانوروں کا کیا ہوگا؟ کیا حکومت عمر دراز جانوروں کو پالنے کیلئے کسانوں کو معاوضہ دے گی؟ کسانوں سے رائے مشورہ کئے بغیر حکومت قانون لا رہی ہے۔ رکن کونسل ہری پرساد، نصیر احمد نے بھی بل کی پر زور طریقہ سے مخالفت کی۔ لیکن کانگریس اور جے ڈی ایس دونوں پارٹیاں بل کو منظور ہونے سے روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ جبکہ بی جے پی کو بڑی کامیابی ملی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: