உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدارس سروے تنازعہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی انٹری، بورڈ نے مسلمانوں سے اجتماعی طور پر مخالفت کرنے کی اپیل کی

    مدارس سروے تنازعہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں سے کی یہ بڑی اپیل

    مدارس سروے تنازعہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں سے کی یہ بڑی اپیل

    آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ آر ایس ایس کے فکر ونظریہ کی نمائندہ جماعت ابھی مرکز اور ملک کی متعدد ریاستوں میں برسراقتدار ہے، جو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں کھلے طور پر منفی نظریات کی حامل ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
    نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ آر ایس ایس کے فکر ونظریہ کی نمائندہ جماعت ابھی مرکز اور ملک کی متعدد ریاستوں میں برسراقتدار ہے، جو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تئیں کھلے طور پر منفی نظریات کی حامل ہے۔ حالانکہ کسی بھی فکر اور نظریہ سے متأثر جماعت جب برسراقتدار آتی ہے تو اس سے امید ہوتی ہے کہ وہ آئین اور دستور کی روح کے مطابق کام کرے گی اور اس کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں گے، خود وزیراعظم بھی پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر آئین وقانون کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کی حکومت اورمختلف ریاستوں میں برسراقتدار ان کی پارٹی کا طرز عمل اس سے الگ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یوپی اور آسام میں جس طرح مدارس پر شکنجہ کسا جارہا ہے اور اس سلسلے میں معمولی خلاف ورزیوں کو بہانہ بنا کر یا تو مدارس کو بند کیا جارہا ہے، یامدارس کی عمارت کو منہدم کیا جارہا ہے، یا پھر ان مدارس و مساجد میں کام کرنے والوں پر بلا دلیل دہشت گردی کا الزام لگایا جارہا ہے، اور بلاثبوت کارروائی کی جارہی ہے۔

    مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت آئین کو طاق پر رکھ کر من مانی کارروائی کررہی ہے۔
    مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت آئین کو طاق پر رکھ کر من مانی کارروائی کررہی ہے۔


    یہ بھی پڑھیں۔

    PM مودی نے منگلورو میں کئی اسکیموں کا کیا آغاز، میک ان انڈیا کے توسیع کو بتایا ضروری 
    یہ بھی پڑھیں۔


    کشمیر میں اقلیتوں کے Target Killing پر دائرعرضی پر سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

    مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ آسام میں ملک کے دوسرے علاقوں سے آنے والے علماء پر قانونی و انتظامی قدغن لگائی جارہی ہے، یہ آئین میں دیئے گئے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور قطعاً قابل قبول نہیں ہے، اگر قانون کی معمولی خلاف ورزی پر مدارس کی بندش اور عمارتوں کا انہدام ہی واحد سزا ہے تو کیوں یہی پیمانہ گروکل، مٹھوں، دھرم شالاؤں اور برادران وطن کے دیگر مذہبی اداروں کیلئے نہیں اپنایا جاتا ہے۔

    مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت آئین کو طاق پر رکھ کر من مانی کارروائی کررہی ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اس طرح کی متعصبانہ اور نفرت کے جذبہ پرمبنی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہے اور کسی منفی نظریہ کے بجائے آئین کی روح پرعمل پیرا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بورڈ مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ صبر وتحمل سے کام لیں اور ایسے غیر قانونی اقدامات کو اجتماعی کوششوں کے ذریعہ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے روکنے کی کوشش کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: