جموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد اب عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی سے چھن جائے گا سرکاری بنگلہ!۔

عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ تھے، اس وقت انہوں نے اپنے اپنے بنگلے پرتقریباً 50 کروڑ روپئے خرچ کئے تھے۔

Aug 07, 2019 07:24 PM IST | Updated on: Aug 07, 2019 07:24 PM IST
جموں وکشمیرسے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد اب عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی سے چھن جائے گا سرکاری بنگلہ!۔

دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد اب جموں وکشمیر کے سابق وزرائےاعلیٰ کا چھن جائے گا سرکاری بنگلہ۔

جموں وکشمیرکی خوبصورت وادیوں کے درمیان بنے سرکاری بنگلے میں رہنے والے سابق وزرائے اعلیٰ کو اپنےآنے والے وقت میں کچھ اورپریشانیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ کواپنی رہائش گاہ تک خالی کرنی پڑسکتی ہے۔ ہندوستانی آئین کےمطابق کسی بھی سابق وزیراعلیٰ کواقتدارسے باہر جانے کے بعد سرکاری رہائش گاہ خالی کرنا ہوتا ہے۔

ٹائمس آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی سمیت سبھی سابق وزیراعلیٰ، سری نگرکے گپکرروڈ پربنے ان سرکاری بنگلوں میں رہتے ہیں، جس کا کرایہ بھی نہیں لیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کشمیرکے سابق وزرائے اعلیٰ نے اپنے سرکاری بنگلوں کوجدید بنانے میں کروڑوں روپئے تک خرچ کئے ہیں۔ بتایا جتا ہے کہ عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ تھے، اس وقت انہوں نے اپنے اپنے بنگلے پرتقریباً 50 کروڑ روپئے خرچ کئے تھے۔ پیپلزڈیموکریٹک پاٹی (پی ڈی پی) کے بانی مفتی محمد سعید نے بھی اپنی نجی رہائش گاہ کی تجدید میں بڑی رقم خرچ کی تھی۔

Loading...

بتایا جاتا ہے کہ عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کے سرکاری بنگلے میں جولوگ کام کرتے ہیں ان کی تنخواہ بھی حکومت کی طرف سے دی جاتی ہے۔ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سے سامنے آرہی خدشات کو دیکھتے ہوئے عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے سابق وزرائے اعلیٰ کی سیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح کا ماحول بن گیا ہے، اس میں ہماری سیکورٹی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔ مفتی نے تواس کےلئےاب سنگین نتائج کی وارننتگ بھی دے دی ہے۔

house-1

سرکاری بنگلے میں نہیں رہتے ہیں غلام نبی آزاد

جموں وکشمیرمیں کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد واحد ایسے وزیراعلیٰ ہیں، جنہوں نے کسی بھی سرکاری بنگلے پرقبضہ نہیں کیا ہے۔ ان کے پاس گپکرروڈ پرجیتہری میں جموں اورکشمیر بینک کے گیسٹ ہاوس میں غیرمستقل مکان ہے۔ دوسری طرف ایک افسرنے بتایا کہ فاروق عبداللہ اپنے گھرمیں رہتے ہیں، لیکن بنگلے کے خلاف کرائے کا دعویٰ کرتے ہیں جوکہ سابق وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے انہیں دیاجاتا ہے۔

سرکاری جائیداد کو بیچ دیا تھا

سابق وزیراعلیٰ غلام محمد صادق کے پوتے افتخارصادق کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے مبینہ طورپرخالی جائیداد کے ایک حصے کوبیچ دیا تھا۔ یہ خالی جائیداد 1947 میں پاکستان کے قبضے والے کشمیرمیں رہنے والے ایک شخص کا تھا، جس نے جموں وکشمیر سرکارکواپنا محافظ مانا تھا۔

 

 

Loading...