உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کا گان لازمی کرنے پرسیاسی پارہ گرم

    یوپی کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کا گان لازمی کرنے پرسیاسی پارہ گرم

    یوپی کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کا گان لازمی کرنے پرسیاسی پارہ گرم

    اتر پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کا گانا لازمی قرار دیئے جانے کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں بھی قومی ترانہ کا گانا لازمی کئے جانے سے متعلق سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ بی جے پی لیڈران کے ذریعہ یوپی کی طرز پر ایم پی و دوسری ریاستوں میں قومی ترانہ کے گانے کو لازمی قرار دیئے جانے کو لیکر جہاں تحریک تیز کردی گئی ہے، وہیں مسلم تنظیموں کے ساتھ کانگریس نے بھی قومی ترانہ کے بہانہ مدارس کی شبیہ کو داغدار کرنے والوں کی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: اتر پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کا گانا لازمی قرار دیئے جانے کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں بھی قومی ترانہ کا گانا لازمی کئے جانے سے متعلق سیاسی گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ بی جے پی لیڈران کے ذریعہ یوپی کی طرز پر ایم پی و دوسری ریاستوں میں قومی ترانہ کے گانے کو لازمی قرار دیئے جانے کو لیکر جہاں تحریک تیز کردی  گئی ہے، وہیں مسلم تنظیموں کے ساتھ کانگریس نے بھی قومی ترانہ کے بہانہ مدارس کی شبیہ کو داغدار کرنے والوں کی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
    یوم آزادی (پندرہ اگست) اور یوم جمہوریہ (چھبیس جنوری) کے موقع پر قومی پرچم کو سلامی دینے کے ساتھ مدارس اسلامیہ میں قومی ترانہ کو جوش و جذبہ کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے، لیکن اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ مدرسوں میں قومی ترانہ کے گان کو لازمی قرار دیئے جانے کے بعد مدھیہ پردیش کے مدارس میں قومی ترانہ کے گان کی لازمیت کو لیکر بی جے پی لیڈران کے ذریعہ تحریک شروع کردی گئی ہے۔

    بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے مدارس میں قومی ترانہ کا گان کرنے والوں کے سوال کو افسوسناک قرار دیا ہے۔
    بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے مدارس میں قومی ترانہ کا گان کرنے والوں کے سوال کو افسوسناک قرار دیا ہے۔


    مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ جن من گن ہونا چاہیئے ،سب جگہ ہونا چاہیے،اچھی بات ہے۔یہ تو سب جگہ ہونا چاہیئے راشٹر کا گیت ہے ،اس لئے سب جگہ ہو اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ سب جگہ ہو۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اتر پردیش کی طرز پر مدھیہ پردیش کے مدارس میں بھی لازمی ہوگا تو انہوں نے کہا کہ قابل غور بات ہے اور غور کیا جا سکتا ہے۔

    مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما کا کہنا ہے کہ بھیا ہم کوئی پاکستان میں تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہاں راشٹر گان ہو۔
    مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما کا کہنا ہے کہ بھیا ہم کوئی پاکستان میں تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہاں راشٹر گان ہو۔


    وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما کا کہنا ہے کہ بھیا ہم کوئی پاکستان میں تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہاں راشٹر گان ہو۔ ہم تویہ کہتے ہیں کہ اترپردیش کے اندر،مدھیہ پردیش کے اندر اور ملک کے گوشے گوشے میں قومی ترانہ کا گان ہو، بھارت ماتا کی جے ہو تو کیا غلط ہے۔ اس لئے اگر ایسا ہو رہا ہے اور ایسا ہوا ہے تو قابل تقلید قدم ہے۔

    وہیں بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے مدارس میں قومی ترانہ کا گان کرنے والوں کے سوال کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ عارف مسعود کہتے ہیں کہ یہ افسوسناک ہے اور لوگ کیسا بے تکا سوال کر رہے ہیں، یہ ان کو سوچنا چاہئے۔ قومی ترانہ کون نہیں گائے گا۔ میں خود گاتا ہوں۔ قومی ترانہ سے نہ کسی کو اعتراض رہا ہے اور نہ کبھی اعتراض ہوگا اور میں آپ کو جانکاری کے لئے بتادوں کہ  بھوپال کی قاضیات میں پندرہ اگست اور چھبیس جنوری کو  وہاں کوئی بھی چلا جائے وہاں پر شہر قاضی کی موجودگی میں علمائے دین ترنگا پرچم پھہراتے ہیں اور وہاں پر علمائے دین کی موجودگی میں قومی ترانہ گایا جاتا ہے۔ یہ بے تکا سوال کیوں کیا جارہا ہے، میں اسے سمجھنے سے قاصر ہوں۔

    وہیں مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہندوستانی مسلمان اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتا ہے، جہاں تک قومی ترانہ کی بات ہے تو قومی ترانہ کو سبھی لوگ پڑھتے ہیں، لیکن حب الوطنی کے نام پر دینی مدارس پر جس طرح سے انگلی اٹھائی جا رہی ہے، وہ غلط اور افسوسناک ہے۔ یہ ملک کے شہریوں کو آزادی ہے کہ جس کو پڑھنا ہو پڑھے، جس کو نہ پڑھنا نہ پڑھے۔ اس تعلق سے سپریم کورٹ کی کئی رولنگ آچکی ہے۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ قومی ترانہ کے ساتھ سارے جہاں سے اچھا ہندستان ہمارا یہ بھی بہت بہترین گیت ہے، اس کو بھی اس کے مساوی شامل کیا جانا چاہئے۔ ’جن من گن‘ کو جو اعتبار حاصل ہے، ویسا ہی اعتبار ’سارے جہاں سے اچھا، ہندستاں ہمارا‘ ترانہ کو بھی حاصل ہے۔ہماری فوج کے اندر بھی ’سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا‘ پڑھا جاتا ہے۔ مدارس کی شبیہ کو داغدار کرنے کی جو کوشش ہے وہ غلط ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ مدارس کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو تحریک آزادی میں مدارس کے کردار کو پڑھنا چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: