உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     اگنی ویر اسکیم: اپوزیشن کے الزامات پر فوج نے دیا جواب، کہا- ذات کا سرٹیفکیٹ پہلے بھی مانگا جاتا تھا

    فوج کے افسران نے کہا کہ فوج کی کسی بھی بھرتی میں پہلے بھی امیدواروں سے ذات سرٹیفکیٹ اور مذہبی سرٹیفکیٹ مانگا جاتا تھا۔ اس سے متعلق اگنی پتھ اسکیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    فوج کے افسران نے کہا کہ فوج کی کسی بھی بھرتی میں پہلے بھی امیدواروں سے ذات سرٹیفکیٹ اور مذہبی سرٹیفکیٹ مانگا جاتا تھا۔ اس سے متعلق اگنی پتھ اسکیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    فوج کے افسران نے کہا کہ فوج کی کسی بھی بھرتی میں پہلے بھی امیدواروں سے ذات سرٹیفکیٹ اور مذہبی سرٹیفکیٹ مانگا جاتا تھا۔ اس سے متعلق اگنی پتھ اسکیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اگنی ویر اسکیم کے تحت ہونے والی بھرتی اسکیم میں ذات کا سرٹیفکیٹ اور مذہب کا سرٹیفکیٹ مانگنے کو لے کر سیاسی ہنگامہ شروع ہوگیا ہے۔ تنازعہ گہرا ہوتا ہوا دیکھ کر فوج نے اپوزیشن لیڈروں کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے۔ فوج کے افسران نے کہا کہ فوج کی کسی بھی بھرتی میں پہلے بھی امیدواروں سے ذات کا سرٹیفکیٹ اور مذہبی سرٹیفکیٹ مانا جاتا تھا۔ اسے لے کر اگنی پتھ اسکیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

      اس کے علاوہ ہندوستانی فوج کے افسر نے کہا کہ ٹریننگ کے دوران مرنے والے رنگ روٹوں اور سروس کے دوران شہید ہونے والے فوجیوں کے لئے مذہبی رسومات کے مطابق آخری رسوم ادا کرنے کے لئے بھی مذہب کی جانکاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

      واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ سمیت تمام اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اگنی پتھ اسکیم پر سوال اٹھاتے ہوئے مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تھی۔ عام آدمی پارٹی لیڈر سنجے سنگھ نے بھرتی عمل سے متعلق حکم کو شیئرکرتے ہوئے لکھا تھا، ‘مودی حکومت کا گھٹیا چہرہ ملک کے سامنے آچکا ہے۔ کیا نریندرمودی پسماندہ، دلتوں اور آدیواسیوں کو فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں مانتے، ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار فوج میں ذات پات پوچھا جا رہا ہے۔

      مودی آپ کو اگنی بنانا ہے یا ذات ویر‘۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جے ڈی یو لیڈر اور پارلیمانی بورڈ کے قومی صدر اوپیندر کشواہا نے بھی ذات سرٹیفکیٹ مانگے جانے پر سوال کھڑا کیا تھا اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے اس پر وضاحت طلب کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      نوپور شرما کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، گرفتاری پر لگی روک، 10 اگست کو ہوگی اگلی سماعت 

      انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے، ’فوج کی بحالی میں ذات سرٹیفکیٹ کی کیا ضرورت ہے، جب اس میں ریزرویشن کا کوئی التزام ہی نہیں ہے۔ متعلقہ محکمہ کے افسران کو وضاحت کرنی چاہئے‘۔ وہیں بی جے پی کی طرف سے بھی عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ کے الزامات پر پلٹ وار کیا گیا۔

      بی جے پی سوشل میڈیا چیف امت مالویہ نے سنجے سنگھ کے الزامات پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے 2013 میں سپریم کورٹ میں دائر ایک حلف نامہ میں وضاحت کی تھی کہ وہ ذات، علاقہ اور مذہب کی بنیاد پر بھرتی نہیں کرتی ہے۔ اس کے علاوہ امت مالویہ نے کہا کہ ہر چیز کے لئے وزیر اعظم مودی کو قصور دینے کی اس سوچ کا مطلب ہے کہ سنجے سنگھ جیسے لوگ ہر دن اپنے پیر کو منہ میں ڈالتے ہیں۔ فوج کی ریجمنٹ عمل انگریزوں کے زمانے سے ہی وجود میں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: