ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Kisan Andolan: صبح 8 بجے سے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے کسان، سبھی ضلع ہیڈ کوارٹر اور دہلی کے ہر ناکے پر کریں گے بھوک ہڑتال

سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر گزشتہ 18 دنوں سے چل رہے احتجاج میں پنجاب اور دیگر ریاستوں سے آئے کسانوں کا آنا ابھی بھی جاری ہے۔ اس درمیان مرکزی وزیر کیلاش چودھری نے کہا کہ حکومت جلد ہی میٹنگ کی نئی تاریخ طے کرے گی۔

  • Share this:
Kisan Andolan: صبح 8 بجے سے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے کسان، سبھی ضلع ہیڈ کوارٹر اور دہلی کے ہر ناکے پر کریں گے بھوک ہڑتال
Kisan Andolan: صبح 8 بجے سے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے کسان، سبھی ضلع ہیڈ کوارٹر اور دہلی کے ہر ناکے پر کریں گے بھوک ہڑتال

نئی دہلی: مظاہرین کسان ایسوسی ایشن کے لیڈروں نے کہا ہے کہ وہ پیر کو ایک دن کی بھوک ہڑتال (Hunger Strike) کریں گے اور نئے زرعی قانون (Farm Laws) کے مطالبات کو لے کر دباو بنانے کے لئے سبھی ضلع ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کیا جائے گا۔ اس درمیان، دہلی کی طرف بڑھ رہے مظاہرین کا بڑا گروپ دہلی - جے پور قومی شاہراہ کو بلاک کر رہا ہے، جسے پولیس نے ہریانہ - راجستھان سرحد پر روک لیا ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال بھی پیر کو پورے دن کی بھوک ہڑتال کریں گے۔ انہوں نے پیر کو مرکزی حکومت سے ’تکبر’ چھوڑ کر اور آندولن کرنے والے کسانوں کے مطالبے کے مطابق، تین زرعی قانون کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔


سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر گزشتہ 18 دنوں سے چل رہے احتجاج میں پنجاب اور دیگر ریاستوں سے آئے کسانوں کا آنا ابھی بھی جاری ہے۔ اس درمیان مرکزی وزیر کیلاش چودھری نے کہا کہ حکومت جلد ہی میٹنگ کی نئی تاریخ طے کرے گی۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اس بار مسئلے کا حل نکال لیا جائے گا۔ سنگھو بارڈر پر نامہ نگاروں کو خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر گرنام سنگھ چڈھونی نے کہا کہ لیڈر اپنے اپنے مقامات پر صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بھوک ہڑتال کریں گے۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ’پورے ملک کے سبھی ضلع ہیڈ کوارٹر پر دھرنے دیئے جائیں گے۔ احتجاج اسی طرح سے چلتا رہے گا’۔ ساتھ ہی کسان سنگھو، ٹکری، پلول، غازی پور سمیت سبھی ناکوں پر انشن پر بیٹھیں گے۔


 سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر گزشتہ 18 دنوں سے چل رہے احتجاج میں پنجاب اور دیگر ریاستوں سے آئے کسانوں کا آنا ابھی بھی جاری ہے۔

سنگھو اور ٹیکری بارڈر پر گزشتہ 18 دنوں سے چل رہے احتجاج میں پنجاب اور دیگر ریاستوں سے آئے کسانوں کا آنا ابھی بھی جاری ہے۔


حکومت کے ساتھ کچھ گروپوں کی ملی بھگت

وہیں مظاہرین کسانوں کے ایک گروپ نے دیر رات مرکزی وزرا راجناتھ سنگھ اور نریندر تومر کے ساتھ میٹںگ کے بعد چلا کی اور جانے والا نوئیڈا - دہلی لنک روڈ خالی کردیا ہے، لیکن گرنام سنگھ چڈھونی نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت کے ساتھ ملی بھگت تھی۔ چڈھونی نے کہا، ’کچھ گروپ احتجاج ختم کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ حکومت کے ذریعہ منظور کئے گئے قانون کے حق میں ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ وہ ہم سے نہیں جڑے ہیں۔ ان کی حکومت کے ساتھ ملی بھگت ہے۔ انہوں نے ہمارے آندولن کو کمزور کرنے کی سازش کی۔ حکومت کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے سازش کر رہی ہے’۔

ایک طرف جہاں کسان آنے والے دنوں میں آندولن کو تیز کرنے کی وارننگ دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف کئی مرکزی وزرا بار بار الزام لگا رہے ہیں کہ ماو نوازوں، کمیونسٹوں اور ملک مخالف طاقتوں نے کسانوں کے احتجاج پر قبضہ کرلیا ہے۔ مظاہرین کسان ایسوسی ایشن کے لیڈران نے اس الزام کو خارج کردیا ہے۔ آندولن کی حمایت کر رہے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کے بیانات سے بھی سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم کو مرکزی وزرا کے دعوں پر وضاحت دینی چاہئے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے اتوار کو کہا کہ نئے زرعی قانون کے خلاف کسانوں کے آندولن کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ’ٹکڑے ٹکرے گینگ’ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی پنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے اس لفظ کا استعمال کرتی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 14, 2020 01:29 AM IST