உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Owaisi on Gyanvapi:’ہم نے ایک بابری مسجد کھودی، اب دوسری مسجد کھونے نہیں دیں گے‘، گیانواپی پر پھر بولے اویسی

    Asaduddin Owaisi  نے گیانواپی مسجد سروے پر دیا پھر بڑا بیان۔

    Asaduddin Owaisi نے گیانواپی مسجد سروے پر دیا پھر بڑا بیان۔

    اس سے قبل اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ ہمارے گھر بغیر کسی قانونی کارروائی کے گرائے جاتے ہیں۔ ہم نے دھوکے کی وجہ سے بابری مسجد کھو دی۔ سپریم کورٹ سے وعدے کے باوجود مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اب ہم دوسری مسجد نہیں کھوئیں گے۔

    • Share this:
      لکھنو:Owaisi on Gyanvapi:آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMAIM) کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے گیانواپی مسجد سروے کے واقعہ پر ایک بار پھر بیان دیا ہے۔ AIMAIM کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پیر کی رات تقریباً 10 بجے اپنی تقریر کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا۔ اس کے ساتھ لکھا تھا- نوجوانوں، ہماری بابری مسجد چھینی گئی۔ ہم نے ایک بابری مسجد کھو دی، اب دوسری مسجد کو کھونے نہیں دیں گے۔ انشا اللہ۔

      ویڈیو میں اسدالدین اویسی صاف کہہ رہے ہیں- 'بابری مسجد کی طرح گیانواپی کو چھین لیا جائے، یہ کوشش کی جا رہی ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے'۔ انہوں نے کہا کہ 'یہ متھرا کی عیدگاہ کو اسی طرح چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں، لکھنؤ کی ٹیلے کی مسجد کو بھی چھین لیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوگا'۔


      کانگریس کا نام لیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ 'انہیں صرف الیکشن کے وقت مسلمانوں کی یاد آتی ہے۔ وہ بھی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر بھی بیان بازی کی۔ کہا- 'پی ایم مودی کو بھی کہا کہ وہ 1991 کے قانون پر عمل کریں اور اس پر عمل کرایں۔'

      یہ بھی پڑھیں:
      Gyanvapi Masjid Case: یکم جون سے گرمی کی چھٹیاں، اب چار جولائی کو ہوگی سماعت

      یہ بھی پڑھیں:
       گیان واپی معاملہ: مسجد کی سروے رپورٹ کا ویڈیو لیک، ہندو فریق نے کہی یہ بات

      بتا دیں کہ اس سے قبل اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ ہمارے گھر بغیر کسی قانونی کارروائی کے گرائے جاتے ہیں۔ ہم نے دھوکے کی وجہ سے بابری مسجد کھو دی۔ سپریم کورٹ سے وعدے کے باوجود مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اب ہم دوسری مسجد نہیں کھوئیں گے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ گیانواپی مسجد تھی اور رہے گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: