உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Elections 2022: اسدالدین اویسی کے لئے آسان نہیں ہے اترپردیش کی راہ، امیدوں پر پھر سکتا ہے پانی!

    مجلس اتحادالمسلمین کے یوپی میں سیاسی آغاز کے اعلان کے بعد بحث ہونے لگی کہ سماجوادی پارٹی فیملی سے الگ ہوئے شیوپال یادو کی پارٹی پرگتی شیل سماجوادی پارٹی اور بی جے پی حکومت میں وزیر رہے باغی لیڈر اوم پرکاش راج بھر اپنی پارٹی سہیل سماج پارٹی کے ساتھ تینوں محاذ تیار کریں گے۔

    مجلس اتحادالمسلمین کے یوپی میں سیاسی آغاز کے اعلان کے بعد بحث ہونے لگی کہ سماجوادی پارٹی فیملی سے الگ ہوئے شیوپال یادو کی پارٹی پرگتی شیل سماجوادی پارٹی اور بی جے پی حکومت میں وزیر رہے باغی لیڈر اوم پرکاش راج بھر اپنی پارٹی سہیل سماج پارٹی کے ساتھ تینوں محاذ تیار کریں گے۔

    مجلس اتحادالمسلمین کے یوپی میں سیاسی آغاز کے اعلان کے بعد بحث ہونے لگی کہ سماجوادی پارٹی فیملی سے الگ ہوئے شیوپال یادو کی پارٹی پرگتی شیل سماجوادی پارٹی اور بی جے پی حکومت میں وزیر رہے باغی لیڈر اوم پرکاش راج بھر اپنی پارٹی سہیل سماج پارٹی کے ساتھ تینوں محاذ تیار کریں گے۔

    • Share this:
      لکھنو: اترپردیش (Uttar Pradesh) میں اسمبلی انتخابات کے لئے جوڑ توڑ کی کوششوں کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کے لئے حالات مشکل ہوگئے ہیں۔ سال کے آغاز میں انتخابی سگبگاہٹ کے درمیان جب اویسی نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی یوپی میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی تو برسر اقتدار بی جے پی سے لے کر اپوزیشن کی سماجوادی پارٹی تک میں کھلبلی مچ گئی۔ وجہ یہ تھی کہ اسدالدین اویسی بہار کے الیکشن میں دم خم دکھا چکے تھے کہ ان کی پارٹی صوبے میں سیاست کو کیسے متاثر کرسکتی ہے اور کیسے کور مسلم ووٹروں کے سہارے سیاست کرنے والی پارٹیوں کے لئے مصیبت پیدا کرسکتی ہے۔

      مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی یوپی میں سیاسی آغاز کے اعلان کے بعد بحث ہونے لگی کہ سماجوادی پارٹی فیملی سے الگ ہوئے شیوپال یادو کی پارٹی پرگتی شیل سماجوادی پارٹی اور بی جے پی حکومت میں وزیر رہے باغی لیڈر اوم پرکاش راج بھر اپنی پارٹی سہیل سماج پارٹی کے ساتھ تینوں محاذ تیار کریں گے۔ یہ محاذ بے شک زیادہ سیٹیں نہ لاپائے، لیکن انتخابی حساب وکتاب اور ذات پات پر مبنی حالات کے لحاظ سے بہت سی اسمبلی سیٹوں پر ووٹ کاٹنے کا کام بخوبی کرسکتا ہے۔ اس اندیشے میں دوسری پارٹیوں کو سوچنے کے لئے مجبور کر دیا۔ موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ اسدالدین اویسی بھلے ہی کتنا دم خم دکھانے کے لئے یوپی میں تال ٹھوکنے جا رہے ہوں، لیکن کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنے ساتھ ان کو ملانے میں ابھی مضبوطی سے سامنے نہیں آئی ہے۔

      اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے لئے جوڑ توڑ کی کوششوں کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کے لئے حالات مشکل ہوگئے ہیں۔
      اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے لئے جوڑ توڑ کی کوششوں کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کے لئے حالات مشکل ہوگئے ہیں۔


      شیو پال اور اوم پرکاش راج بھر نے بنائی دوری!

      سب سے زیادہ دارومدار شیو پال یادو کی پرگتی شیل پارٹی اور اوم پرکاش راج بھر کی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی پر تھا، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ دونوں نے ہی فی الحال اسدالدین اویسی سے دوری بنا رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اوم پرکاش راج بھر ابھی تک یہی نہیں طے کر پائے ہیں کہ آخر وہ کس کا دامن تھامیں۔ ایک ہفتے پہلے بی جے پی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ سے ملاقات کے بعد قیاس آرائی کی جانے لگیں کہ اوم پرکاش راج بھر بی جے پی میں واپسی کرسکتے ہیں۔ کہا یہ بھی گیا کہ اس بار اوم پرکاش راج بھر صرف اپنے بیٹے کے سیاسی کیریئر کو آگے رکھ کر بات کر رہے ہیں، جس سے کہ ان کے بیٹے اروند راج بھر کا سیاسی کیریئر ٹھیک سے شروع ہوسکے، لیکن ابھی تک بی جے پی میں کچھ طے ہوتا، اس سے پہلے بات سامنے آئی کہ اوم پرکاش راج بھر بات کر رہے ہیں، جس سے کہ ان کے بیٹے اروند راج بھر کا سیاسی کیریئر ٹھیک سے شروع ہوسکے، لیکن ابھی تک بی جے پی میں کچھ طے ہوتا اس سے پہلے بات سامنے آئی کہ اوم پرکاش راج بھر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے ساتھ جانے کے بھی خواہاں ہیں۔ اگر دونوں میں سے کسی بھی ایک کے ساتھ راج بھر گئے تو اویسی کے لئے کسی بھی طریقے سے ان کے ساتھ جڑنا ممکن نہیں ہوگا۔

      شیو پال یادو بھلے ہی محاذ بنانے اور 400 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا دعویٰ کرتے ہوں، لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ شیو پال ابھی بھی سماجوادی پارٹی میں واپسی یا اتحاد چاہتے ہیں۔ فائل فوٹو
      شیو پال یادو بھلے ہی محاذ بنانے اور 400 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا دعویٰ کرتے ہوں، لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ شیو پال ابھی بھی سماجوادی پارٹی میں واپسی یا اتحاد چاہتے ہیں۔ فائل فوٹو


      شیو پال کے لئے سماجوادی سے بہتر کوئی متبادل نہیں

      دوسری طرف یہی حال پرگتی شیل سماج پارٹی کے صدر شیو پال یادو کا بھی ہے۔ شیو پال یادو بھلے ہی محاذ بنانے اور 400 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا دعویٰ کرتے ہوں، لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ شیو پال ابھی بھی سماجوادی پارٹی میں واپسی یا اتحاد چاہتے ہیں۔ سیاست کے تجربہ کار شیوپال یادو بھی یہ جانتے ہیں کہ ان کے لئے سب سے فائدے مند سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا ہی ہے۔ وجہ یہ بھی ہے کہ راج بھر کی طرح شیو پال یادو کوبھی اپنے بیٹے آدتیہ یادو کو سیاست میں مضبوط زمین دلانی ہے۔ اس لحاظ سے شیو پال کے لئے سماجوادی پارٹی سے بہتر کوئی متبادل نہیں ہے۔ ایسے میں اگر وہ اسدالدین اویسی کے ساتھ کسی بھی طرح کا رابطہ کرتے ہیں تو یہ بات اکھلیش یادو کو ناگوار گزر سکتی ہے اور سماجوادی پارٹی فیملی میں میل ملاپ کے تمام امکانات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔

      یوگی حکومت میں وزیر رہے اوم پرکاش راج بھر کی پہلی پسند اکھلیش یادو ہیں، وہ سماجوادی پارٹی سے ہی اتحاد کرنا چاہتے ہیں۔
      یوگی حکومت میں وزیر رہے اوم پرکاش راج بھر کی پہلی پسند اکھلیش یادو ہیں، وہ سماجوادی پارٹی سے ہی اتحاد کرنا چاہتے ہیں۔


      اسدالدین اویسی کے یوپی میں انتخابات لڑنے سے سب سے بڑا فائدہ بی جے پی کو ہی ہے۔ تاہم دوسری طرف خطرہ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے لئے بھی ہے۔ کیونکہ سماجوادی پارٹی مسلم رائے دہندگان کے سہارے کسی اسمبلی حلقہ میں الٹ پھیر کرتی رہی ہے۔ تاہم اسدالدین اویسی کے آنے سے ان رائے دہندگان پر فرق پڑ سکتا ہے اور اگر ہوتا ہے تو سماجوادی پارٹی کئی مقامات پر معمولی فرق سے سیٹیں گنوا سکتی ہے۔

      ان حالات کے درمیان اگر محاذ کے ایک گروپ کے طور پر شیو پال یادو اے آئی ایم آئی ایم کے اسدالدین اویسی کا ساتھ لیتے ہیں تو ان کا ابھی یا مستقبل میں سماجوادی پارٹی سے ملنے کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔ اس لئے اسدالدین اویسی، اوم پرکاش راج بھر اور شیوپال یادو دونوں کے لئے فی الحال خسارے کا سودا ہے۔ اب ان حالات میں اسدالدین اویسی کی آگے کی حکمت عملی کیا بنتی ہے، کسی کو نہیں معلوم۔ لیکن اتنا طے ہے کہ یوپی میں انتخابات سے قبل چھوٹی جماعتوں کا کوئی محاذ بنے گا جو ریاست کے کئی اضلاع میں ایک دو سیٹیوں پر اثر ڈالتے ہوئے سیٹوں کے نتیجے اور حساب پر اثر ڈالے گا اور تبھی اس محاذ کے سہارے اس کے لیڈر اقتدار کا کھیل بنانے یا بگاڑنے کا کام کریں گے۔

      شیوندر شریواستو کی رپورٹ

      (ڈسکلیمر: یہ رائٹر کا ذاتی نظریہ ہے۔ تحریر میں دی گئی کسی بھی اطلاع کی تصدیق کے تئیں رائٹر خود جوابدہ ہے۔ س کے لئے نیوز 18 اردو کسی بھی طرح کا جوابدہ نہیں ہے)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: