உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جہانگیرپوری پہنچے اسدالدین اویسی، دہلی اور مرکزی حکومت پر کیا تنقیدی حملہ، کہا-اب تک کیا سو رہی تھی حکومت؟

    Youtube Video

    اویسی(Asaduddin Owaisi) نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ مجرم کون ہے یہ عدالت فیصلہ عدالت کرے گی، آپ (حکومت) اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ آپ نے مسجد کے سامنے کی دکانیں توڑ دیں لیکن مندر کے سامنے والی دکان کیوں نہیں توڑی؟ ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی میں مذمت کرتا ہوں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بدھ کے روز جہانگیر پوری میں شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن (NDMC) کے ذریعہ انسداد تجاوزات مہم شروع کی گئی۔ اس میں بلڈوزر نے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کئی تعمیرات کو گرا دیا۔ اس معاملے پر سیاست گرم ہے۔ شام میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی جہانگیرپوری پہنچے۔ انہوں نے مرکز اور دہلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ (دکانیں اور مکانات) غیر مجاز تھے تو بی جے پی حکومت سات سال سے کیوں سو رہی تھی؟

      اسد الدین اویسی نے کہا کہ چھ سات سال سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کو پہلے کیوں نہیں گرایا گیا؟ اگر وہ (دکانیں اور مکانات) غیر مجاز تھے تو مرکزی حکومت کیا سو رہی تھی۔ حکومت نے ایک کمیونٹی کو نشانہ بنایا ہے اور ان کی دکان اور مکان کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب پولیس نے یاترا کی اجازت نہیں دی تو اسے کیسے نکالا گیا؟ اویسی نے دہلی کے سی ایم کیجریوال کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال کے گھر پر حملہ ہوا تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔


      یہ بھی پڑھیں:
      جہانگیر پوری بلڈوزر معاملے میں Supreme Court کی فوری مداخلت کا ارشد مدنی نے کیا خیرمقدم

      اویسی نے کہا کہ یہ لوگ لوگوں کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا کہہ رہے ہیں۔ یہ ہندوستانی ہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، انصار، احمد پر بلڈوز چلے گا لیکن ارجن، اجے پرنہیں۔ یہی فرق ہے۔ بی جے پی یا عام آدمی پارٹی میں ہونے کے باوجود انصار انصار ہی رہتا ہے۔ یہ تباہی کا فیصلہ ہے۔ الیکشن آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ان کا کیا جو رمضان کے دوران سڑکوں پر اترے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جہانگیرپوری میں بلڈوزر پر لگی روک، MCD کو سپریم کورٹ کا حکم،جوں کی توں صورتحال بنائے رکھیں

      اویسی(Asaduddin Owaisi) نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی کہ مجرم کون ہے یہ عدالت فیصلہ عدالت کرے گی، آپ (حکومت) اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ آپ نے مسجد کے سامنے کی دکانیں توڑ دیں لیکن مندر کے سامنے والی دکان کیوں نہیں توڑی؟ ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کی میں مذمت کرتا ہوں۔ قانونی طور پر ایک نیا بلڈوزر جلوس نکالا گیا ہے۔ مسلمانوں کو اجتماعی عذاب کا سامنا ہے۔ میں سپریم کورٹ کا شکرگزار ہوں کہ اس نے ایسی کارروائی کو روک دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: