مغربی بنگال :عملی سیاست میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کا پہلا قدم،ان انتخابات میں کیا مقابلہ

اسدالد ین اویسی نے مسلم اکثریتی ضلع شمالی دیناج پور میں واقع اس مدرسہ کی کمیٹی میں اپنا امیدوار اتارکراپنے مستقبل کے عزائم اور منصوبے کا اظہار کردیا ہے۔

Dec 02, 2019 02:58 PM IST | Updated on: Dec 02, 2019 03:10 PM IST
مغربی بنگال :عملی سیاست میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کا پہلا قدم،ان انتخابات میں کیا مقابلہ

مغربی بنگال میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین

شمالی دیناج پور کے ہیمت آباد ہائی مدرسہ انتظامیہ کمیٹی کے انتخاب میں امیدواراتار کرمغربی بنگال کے سیاسی منظرنامہ سے اب تک غائب رہنے والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بنگال کے انتخابی سیاست میں قدم رکھ کر مستقبل کے اپنے منصوبے و عزائم کا اظہار کردیا ہے۔ ایک مہینے قبل تک آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا مغربی بنگال کی انتخابی سیاست میں کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا تھا تاہم گزشتہ مہینے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ حیدرآباد کی سیاسی جماعت کی سخت تنقید کرنے اور بی جے پی کے اشارے پر سیکولر ووٹ کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد سے ہی اے آئی ایم آئی ایم مغربی بنگال کی سیاست میں چرچے میں آگئی ہے۔

 مغربی بنگال میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کی تیاریاں مغربی بنگال میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کی تیاریاں

Loading...

اگرچہ ہائی مدرسہ منجمنٹ کمیٹی کا انتخاب مقامی نوعیت کا ہے تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اسدالد ین اویسی نے مسلم اکثریتی ضلع شمالی دیناج پور میں واقع اس مدرسہ کی کمیٹی میں اپنا امیدوار اتارکراپنے مستقبل کے عزائم اور منصوبے کا اظہار کردیا ہے۔ مجلس اتحادالمسلمین کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے سے اس بات کے اشارے مل رہے کہ  اے آئی ایم آئی ایم مغربی بنگال کے  اسمبلی انتخابات میں بھی اپنی قسمت آزمائیگی۔ بتایاجارہاہے کہ اسدالدین اویسی جلدہی مغربی بنگال کا دورہ کرکے وہاں اسمبلی انتخابات کے لیے  امیدواروں کا انتخاب کرینگے ۔ نیوز18 اردو کو ایم آئی ایم ذرائع نے بتایا کہ مجلس اتحادالمسلمین ، مغربی بنگال میں  اقلیتی آباد ی کی اکثریت والے اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔

اویسی، ممتا بنرجی: فائل فوٹو

اتوار کے دن ہوئے ہیمت آباد پولس اسٹیشن کے تحت ووگرام ہائی مدرسہ منجمٹ کمیٹی کے انتخاب میں حیرت انگیزطور پر بی جے پی نے اپنا کوئی امیدوار نہیں اتاراتھا۔ بلکہ غیر اعلانیہ طور پر کانگریس اورسی پی ایم اتحاد کے امیدوار کی حمایت کی۔ مقامی بی جے پی کے مطابق اس کا مقصد ترنمول کانگریس کو روکنا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ضمنی انتخاب میں شمالی دیناج پور کے کالیا گنج کے اسمبلی حلقے میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔جب کہ لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے اس حلقے سے 40ہزار سے زیادہ ووٹوں کی سبقت حاصل کی تھی۔ تاہم مقامی بی جے پی قیادت نے کانگریس اور لیفٹ اتحاد کی حمایت کی خبرکی تردید کی ہے۔ بی جے پی کے مقامی لیڈرآزادعلی نے کہا کہ این آر سی کے پروپیگنڈے کی وجہ سے بی جے پی یہاں پرتنظیمی طورپر کمزور ہوگئی ہے۔ت اہم کانگریس اتحاد کی حمایت کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا ہے۔

Loading...