உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    9 میں سے ایک بچی 5 سال سے کم عمر میں توڑ دیتی ہے دم... لیکن مودی حکومت کو افغانی خواتین کی فکر: اسدالدین اویسی

    اسدالدین اویسی نے کہا- 5 سال سےکم عمرمیں دم توڑدیتی ہے بچیاں، مودی حکومت کو افغانی خواتین کی فکر

    اسدالدین اویسی نے کہا- 5 سال سےکم عمرمیں دم توڑدیتی ہے بچیاں، مودی حکومت کو افغانی خواتین کی فکر

    آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اور حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے کہا ہے کہ ’افغانستان پر طالبان کے قبضے سے پاکستان کو زیادہ فائدہ ہوا ہے‘۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) کے قبضے کا اثر ہندوستان کی گھریلو سیاست پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حال ہی میں اترپردیش کے سنبھل سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق کے خلاف طالبان کی حمایت میں بیان دینے کا معاملہ درج کرایا گیا ہے۔ دوسری جانب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے افغانستان موضوع کو لے کر حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، اسدالدین اویسی نے کہا- ’ایک رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں 9 میں سے ایک بچی کی موت 5 سال کی عمر سے پہلے ہوجاتی ہے۔ یہاں خواتین پر ظلم اور جرائم ہوتے ہیں۔ لیکن، وہ (مرکزی حکومت) ہیں کہ افغانستان میں خواتین کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کیا یہاں نہیں ہو رہا ہے‘؟

      اسدالدین اویسی نے کہا، ’افغانستان پر طالبان کے قبضے سے پاکستان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ القاعدہ اور داعش افغانستان کے کچھ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔ آئی ایس آئی ہندوستان کا دشمن ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ آئی ایس آئی کا طالبان پر کنٹرول ہے۔ وہ اسے کٹھ پتلی کی طرح استعمال کرتا ہے‘۔



      شفیق الرحمن برق نے کیا کہا تھا؟

      اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے سنبھل سے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے صحافیوں سے بات چیت میں پیر کو کہا تھا کہ طالبان ایک طاقت ہے اور اس نے افغانستان میں امریکہ کے پاوں جمنے نہیں دیئے۔ طالبان اب اپنے ملک کو خود چلانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا، ‘ہمارا ملک جب انگریزوں کے قبضے میں تھا تو سبھی ہندوستانیوں نے مل کر آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ افغانستان پر امریکہ نے قبضہ کر رکھا تھا۔ اس سے پہلے اس ملک پر روس کا قبضہ تھا۔ مگر افغانی آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، اس میں ہم کیا دخل دیں گے‘؟

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: