پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے ایئر انڈیا کو 430 کروڑ روپے کا نقصان

گزشتہ 26 فروری کو فضائیہ کی پاک مقبوضہ جموں و کشمیر کے نزدیک بالاكوٹ میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستان نے تمام طرح کی پروازوں کے لئے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔

Jul 17, 2019 05:00 PM IST | Updated on: Jul 17, 2019 05:02 PM IST
پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے ایئر انڈیا کو 430 کروڑ روپے کا نقصان

علامتی تصویر

سرکاری ہوابازی کمپنی ایئر انڈیا کو سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پاکستان کی طرف سے اپنی فضائی حدود بند کیے جانے سے 430 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ شہری ہوا بازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں ضمنی سوالات کے جواب میں یہ اطلاع دی۔

گزشتہ 26 فروری کو فضائیہ کی پاک مقبوضہ جموں و کشمیر کے نزدیک بالاكوٹ میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد پاکستان نے تمام طرح کی پروازوں کے لئے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔  خیال رہے کہ پاکستان نے پیر کی رات کو اپنی فضائی حدود پھر سے تمام پروازوں کے لئے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔  ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود بند رہنے سے ایئر انڈیا کو 430 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سال 2018-19 میں ایئر انڈیا کو 7000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں اس کے منافع کمانے کا امکان ہے۔ حکومت اس کمپنی کے لئے ایک متبادل میکانزم پر غور کر رہی ہے جو اس کی نجکاری کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ حکومت کمپنی کے کام کے نظام کی کارکردگی بڑھانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایئر انڈیا میں ابھی 1677 پائلٹ ہیں جن میں سے 1108 مستقل اور 569 معاہدے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایئر انڈیا میں پائلٹوں کی کمی نہیں ہے۔ پائلٹوں کی ایک تقرری مسلسل عمل ہے اور کمپنی نے 270 معاون پائلٹوں کی تقرری کے لئے سال 2017 میں اشتہارات شائع کیے تھے۔ گزشتہ جون میں بھی 132 پائلٹوں کی تقرری کا اشتہاردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر انڈیا کی نجکاری کی صورت میں پائلٹوں کی ملازمت پر کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

Loading...

Loading...