ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

آسام انتخابات کے نتائج سے پہلے بدرالدین اجمل کی پارٹی کے 17 لیڈر جے پور میں، ٹوٹ کے ڈر سے اٹھایا گیا یہ قدم

آسام اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی اتحادی اور بدرالدین اجمل کی قیادت والی اے آئی یو ڈی ایف کے 17 امیدوار ان دنوں جے پور کے ہوٹل فیئرمانٹ میں ہیں۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد جیتے رکن اسمبلی کہیں بی جے پی میں نہ چلے جائیں، اس ڈر سے باڑہ بندی کی گئی ہے۔

  • Share this:
آسام انتخابات کے نتائج سے پہلے بدرالدین اجمل کی پارٹی کے 17 لیڈر جے پور میں، ٹوٹ کے ڈر سے اٹھایا گیا یہ قدم
آسام انتخابات کے نتائج سے پہلے بدرالدین اجمل کی پارٹی میں ٹوٹ کا خدشہ

جے پور: جے پور کی پانچ ستارہ ہوٹل فیئر مانٹ پھر سرخیوں میں ہے۔ یہ بحث دراصل آسام اسمبلی انتخابات میں کانگریس اتحاد کی پارٹی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ یعنی اے آئی یو ڈی ایف کے 19 میں سے17 امیدواروں کی باڑہ بندی کو لے کر ہو رہی ہے۔ آسام میں 126 سیٹوں پر انتخابات ہوئے۔ کانگریس نے 93 سیٹوں پر اور اے آئی ڈی یو ایف نے 19 سیٹوں پر امیدوار اتارے۔ یہاں ووٹنگ ہوچکی ہے اور نتیجے 2 مئی کو آئیں گے۔


نتائج سے 22 دن پہلے امیدواروں کی باڑے بندی کو لے کر ہرکوئی حیران ہے۔ ابھی طے نہیں کہ جن امیدواروں کی باڑے بندی کی گئی، ان میں سے الیکشن کتنے جیت پائیں گے۔ کانگریس اتحاد بی جے پی سے آگے نکل پائے گا یا نہیں، لیکن ان سب سے پہلے اے آئی یو ڈی ایف امیدواروں کی باڑے بندی کو لے کر سیاسی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔


آسام کے اسمبلی انتخابات میں اس بار بدرالدین اجمل تیسرے کھلاڑی نظر آرہے ہیں۔ آسام میں بی جے پی کی واپسی کو روکنے کے لئے کانگریس نے بدرالدین اجمل سے ہاتھ ملایا۔ آسام میں مسلم ووٹوں پر بدرالدین اجمل کی پکڑ کافی مضبوط مانی جاتی ہے۔ کانگریس اتحاد میں سب سے زیادہ جیت کا امکان اے آئی یو ڈی ایف اور بوڈو لینڈ پیپلز فرنٹ کے امیدواروں کی ہے۔ خود کانگریس کو اپنے امیدواروں کی جیت پرجتنا بھروسہ نہیں، اتنا اتحاد کے جماعتوں پر ہے۔ اسی وجہ سے کانگریس ان امیدواروں کی باڑے بندی میں مصروف ہے۔ کانگریس کو خوف ہے کہ اگر بی جے پی کو آسام میں اکثریت نہیں ملی تو بدرالدین اجمل کی پارٹی اے آئی یو ڈی ایف اور بی پی ایف کے جیتے ہوئے رکن اسمبلی ٹوٹ سکتے ہیں۔


جے پور کے فیئرمانٹ ہوٹل میں اے آئی یو ڈی ایف کے امیدواروں کو رکھا گیا ہے۔
جے پور کے فیئرمانٹ ہوٹل میں اے آئی یو ڈی ایف کے امیدواروں کو رکھا گیا ہے۔


کانگریس پارٹی کے ڈر کی وجہ بی جے پی لیڈر ہیمنت بسو سرما ہیں۔ سرما کبھی کانگریسی تھے۔ 2016 کے انتخاب سے پہلے پالا بدل کر بی جے پی میں آئے اور کانگریس آسام کی اقتدار سے باہر ہوگئی۔ اس بار بھی ہیمنت بسو سرما کی کوشش سے بی پی ایف کا ایک امیدوار الیکشن سے پہلے میدان سے ہٹ گیا اور بی جے پی کے ساتھ چلا گیا۔ کانگریس کو خوف ہے کہ کہیں بی جے پی اکثریت سے دور رہی تو اتحاد کے اراکین اسمبلی نہ ٹوٹ جائیں۔

بھوانی سنگھ کی رپورٹ
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 10, 2021 02:40 PM IST