بنارس ہندو یونیورسٹی کےمسلم اسسٹنٹ پروفیسرکی حمایت میں آئےمہنت نریندرگری، احتجاجی مظاہرے کوبتایا غلط

اکھاڑہ پریشد کےصدرمہنت نریندرگری کا کہنا ہےکہ پہلےایسا ہوتا تھا جب گروکل روایت تھی تب خاص مذہب کےلوگوں کا انتخاب ہوا کرتا تھا، جومناسب بھی تھا، لیکن ہندوستان آج 21 ویں صدی میں داخل ہوچکا ہے، ہرمذہب اورہرطبقےکےلوگ ہرزبان کا علم رکھتے ہیں اورآئینی طورپران کا حق بھی ہے۔

Nov 22, 2019 04:59 PM IST | Updated on: Nov 22, 2019 05:00 PM IST
بنارس ہندو یونیورسٹی کےمسلم اسسٹنٹ پروفیسرکی حمایت میں آئےمہنت نریندرگری، احتجاجی مظاہرے کوبتایا غلط

بی ایچ یوکے پروفیسرفیروزخان کی حمایت میں آئے مہنت نریندرگری

پریاگ راج: بنارس ہندویونیورسٹی (بی ایچ یو) کے سنسکرت ودیا دھرم سائنس فیکلٹی کے شعبہ ادب میں اسسٹنٹ پروفیسرکےعہدے پرڈاکٹرفیروزخان کی تقرری کولےکرسادھوسنتوں کی تنظیم اکھاڑہ پریشد بھی میدان میں آگئی ہے۔ اکھاڑہ پریشد کےصدرمہندرنریندرگری نے بنارس ہندویونیورسٹی کےطلباء سےاپیل کی ہےکہ وہ اپنےاحتجاج کوواپس لےکریونیورسٹی کے مفاد میں مسلم پروفیسرفیروزخان کے ساتھ قدم سےقدم ملاکرتعاون کریں۔ واضح رہےکہ فیروزخان کی تقرری بنارس ہندویونیورسٹی کے سنسکرت شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسرکے عہدے پرہوئی ہے۔ طلباء کےایک گروپ کےجانب سے فیروزخان کی تقرری کی مذہب کی بنیاد پرمخالفت کی جارہی ہے۔ حالانکہ بی ایچ یوکےچانسلرنےتقرری منسوخ کرنے سے انکارکردیا ہے۔

مہنت نریندرگری کا کہنا ہےکہ پہلےایسا ہوتا تھا جب گروکل روایت تھی تب خاص مذہب کے لوگوں کا انتخاب ہوا کرتا تھا، جومناسب بھی تھا، لیکن ہندوستان آج 21 ویں صدی میں داخل ہوچکا ہے، ہرمذہب اورہرطبقےکےلوگ ہرزبان کا علم رکھتےہیں اورآئینی طورپران کا حق بھی ہے۔ ایسے میں اگرمسلم پروفیسرسنسکرت پڑھا رہا ہے تویہ ہمارے لئےزیادہ اچھی بات ہے۔ ہمیں ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے، بلکہ ہمیں ان کا استقبال کرنا چاہئے۔ کیونکہ ایک مسلم ہوکرسنسکرت زبان کا پروفیسرہے، جوہمارے لئےاچھی بات ہے۔

Loading...

واضح رہےکہ گزشتہ ایک ہفتے سےبنارس ہندو یونیورسٹی میں طلباء کےذریعہ مسلسل سنسکرت شعبےکےاسسٹنٹ پروفیسرفیروزخان کی تقرری کی مخالفت اس لئے کی جارہی ہے کہ وہ مسلم ہیں۔ اس کے بعد سے طلباء مسلم پروفیسرکوہٹانےکے مطالبے کولےکرمسلسل یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ وہیں طلباء کےاحتجاجی مظاہرے پر اکھاڑہ پریشد کے صدرمہنت نریندرگری نےاعتراض ظاہرکرتے ہوئے مظاہرہ ختم کرنی کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ یہ ہمارے لئےاچھی بات ہےکہ ایک مسلم سنسکرت کا پروفیسر ہے۔ ہمیں اس کی مخالفت نہیں بلکہ استقبال کرنا چاہئے۔

Loading...