دادری سانحہ کی سی بی آئی جانچ کرانے سے اکھلیش حکومت کا انکار

الہ آباد: اترپردیش حکومت نے دادری کے بیف معاملہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے سے آج صاف انکار کر دیا۔ ریاستی حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں داخل حلف نامے میں کہا کہ پولیس واقعہ کی غیر جانبدارانہ طریقہ سے تحقیقات کر رہی ہے۔

Apr 06, 2016 08:56 PM IST | Updated on: Apr 06, 2016 08:57 PM IST
دادری سانحہ کی سی بی آئی جانچ کرانے سے اکھلیش حکومت کا انکار

الہ آباد: اترپردیش حکومت نے دادری کے بیف معاملہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے کرانے سے  صاف انکار کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں داخل حلف نامے میں کہا کہ پولیس واقعہ کی غیر جانبدارانہ طریقہ سے تحقیقات کر رہی ہے۔

ملزم پولیس کی تفتیش کو بھٹکانے اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کرنے کی نیت سے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں۔معاملے کی سماعت کر رہی جسٹس اجے لامبا اور جسٹس راگھویندر کی ڈویزن بنچ نے عرضی گزار کو حکومت کے جواب کا جواب داخل کرنے کا موقع دیتے ہوئے مقدمہ کی سماعت کے لئے چار مئی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

واقعہ کے اہم ملزم کے والد سنجے سنگھ اور سوراج سنگھ نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کر کے معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے پولیس کی جانب سے دائر چارج شیٹ منسوخ کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔عرضی گزار کا کہنا ہے کہ اسے سیاسی رنجش کی وجہ سے اس معاملے میں پھنسایا گیا ہے کیونکہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا رکن ہے۔ تفتیش میں پولیس من مانی کر رہی ہے۔ لیبارٹری رپورٹ کے بغیر چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔

عدالت نے اس معاملے میں حکومت سے جواب طلب کیا تھا. ریاستی حکومت نے سرخیوں میں چھائے اس معاملے کے سلسلے میں جواب داخل کر کے بتایا کہ واقعہ 28 ستمبر 15 کی رات ساڑھے دس بجے کا ہے اور ایف آئی رات 11.30 بجے درج کرائی گئی۔ ملزمین کا نام مرنے والے اخلاق کی بیوی کے ذریعہ درج کرایا گیا جو واقعہ کی چشم دید گواہ ہے۔

Loading...

اس واقعہ میں اخلاق کا بیٹا بھی شدید طور پر زخمی ہوا تھا جو چشم دیدگواہ ہے۔ متاثرین کے پاس ملزم کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کراکر پھنسانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ پولیس نے منصفانہ تحقیقات کی ہے اور چشم دیدگواہوں کے بیانات کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ ملزمین کی طرف سے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنا غلط ہے اور ایسا صرف معاملے کو لٹکانے کے ارادے سے کیا جا رہا ہے۔

Loading...