ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

لاک ڈاون کے درمیان کرناٹک چھوڑ کر چلے گئےمزدوروں کو واپس لانا ایک بڑا چیلنج، محکمہ مزدور کے نئےکمشنر اکرم پاشاہ کا بیان

اکرم پاشاہ نےکہا کہ لاک ڈاؤن کے چند دنوں بعد شمالی ہند کے تقریباً 6 لاکھ مزدور اپنے اپنے مقامات کو واپس جانے کیلئے نام رجسٹر کروائے ہیں۔ ان میں 4 لاکھ مزدور شرمک ٹرینوں اور ٹرانسپورٹیشن کے دیگر ذرائع سے اپنے اپنےگھر لوٹ چکے ہیں۔

  • Share this:
لاک ڈاون کے درمیان کرناٹک چھوڑ کر چلے گئےمزدوروں کو واپس لانا ایک بڑا چیلنج، محکمہ مزدور کے نئےکمشنر اکرم پاشاہ کا بیان
لاک ڈاون کے درمیان کرناٹک چھوڑ کر چلے گئےمزدوروں کو واپس لانا ایک بڑا چیلنج

بنگلورو: کرناٹک ایڈمنسٹریٹر سروس سے آئی اے ایس کے زمرے میں داخل ہونے والے اکرم پاشاہ کو ریاستی حکومت نے اب نئی ذمہ داری سونپی ہے۔ محکمہ گنا اور شکر کے کمشنر کے ساتھ  محکمہ مزدور کے کمشنر کے طور پر اکرم پاشاہ کو مقرر کیا ہے۔ نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اکرم پاشاہ نے بنگلورو میں میڈیا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی وبا اور  لاک ڈاؤن کے سبب مزدوروں کو کافی پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔ خاص طور پر کرناٹک میں رہنے والے شمالی ہندوستان کے مزدوروں کیلئے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار، اترپردیش، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، آسام اور دیگر شمالی ریاستوں کے مزدور بنگلورو اور کرناٹک کے مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں رہتے ہیں، لیکن لاک ڈاون کے بعد ریاست میں کئی بڑی اور چھوٹی فیکٹریوں اور تعمیراتی کمپنیوں کا کام کاج بند ہوا ہے، جس کے سبب لاکھوں کی تعداد میں  مزدور بے روزگار ہوئے اور اپنے گھروں کی جانب لوٹنے لگے۔


اکرم پاشاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے چند دنوں بعد شمالی ہند کے تقریباً 6 لاکھ مزدور اپنے اپنے مقامات کو واپس جانے کیلئے نام رجسٹر کروائے ہیں۔ ان میں 4 لاکھ مزدور شرمک ٹرینوں اور ٹرانسپورٹیشن کے دیگر ذرائع سے اپنے اپنےگھر لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ کرناٹک چھوڑ کرگئے مزدوروں کو واپس لانا حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکرم پاشاہ نے کہا کہ وہ حالات کے معمول پر آنے کے بعد مزدوروں کو واپس  لانے کی جانب خاص توجہ دیں گے۔ محکمہ لیبر کے نئے کمشنر نےکہا کہ وہ مزدوروں کیلئے جاری سوشل سیکورٹی اسکیم، تنخواہوں سے متعلق اسکیمیں نافذ کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔


لاک ڈاؤن کے سبب مزدوروں کو کافی پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔ فائل فوٹو
لاک ڈاؤن کے سبب مزدوروں کو کافی پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔ فائل فوٹو


اکرم پاشاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کر رہے منظم اور غیر منظم شعبوں کے مزدوروں کو ریاستی حکومت پانچ ہزار روپئے کی مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ اب تک منظم شعبہ سے جڑے 13 لاکھ مزدوروں کو مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔ غیر منظم شعبہ کے مزدوروں کیلئے بھی پانچ ہزار مالی مدد دینے کا اعلان ہوا ہے۔ ان مزدوروں کی بھی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ اکرم پاشاہ نے کہا کہ حجامت اور دھوبی کے پیشہ سے وابستہ افراد کیلئے بھی حکومت نے پانچ پانچ ہزار روپئے کی رقم بطور راحت  دینے کا اعلان کیا ہے۔



اس سلسلے میں جلد ہی درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ اکرم پاشاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے درمیان محکمہ مزدور نے بنگلورو اور دیگر شہروں میں روزانہ کھانے کا بڑے پیمانے پر انتظام کیاہے۔ شرمک ٹرینوں سے روانہ ہونے والے مسافروں کیلئے بھی کھانے کا بندوبست محکمہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اکرم پاشاہ نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران مزدوروں کیلئے کھانا فراہم کرنے میں حکومت کے علاوہ کئی این جی اوز نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں جین سماج کے این جی اوز، مرسی مشن کے تحت مسلم این جی اوز، سکھ اور عیسائی تنظیموں کی کوششیں قابل ستائش رہی ہیں۔



اکرم پاشاہ نے کہا کہ وہ مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ واضح رہے کہ اکرم پاشاہ نے کرناٹک کے محکمہ اقلیتی بہبود میں طویل عرصے تک خدمات انجام دی ہیں۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبودی کیلئے کئی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں۔ اب جبکہ کورونا کی وبا سے عوام بے حد پریشان ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث سب سےزیادہ مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے، مزدوروں کے مسائل  پر بحث ہورہی ہے، حکومتوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان نازک حالات میں اکرم پاشاہ کو کرناٹک حکومت نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری سنوپی ہے۔
First published: Jun 05, 2020 12:26 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading