ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تمل ناڈو : رجنی کانت کے بعد الاگیری نے بڑھایا سیاسی تذبذب ، جنوری میں لانچ کرسکتے ہیں پارٹی

Tamil Nadu Assembly Election: رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے الاگیری کو اپنی جانب لانے کی کافی کوششیں کیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی ریاست میں اگلے اسمبلی انتخابات کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہے ۔

  • Share this:
تمل ناڈو : رجنی کانت کے بعد الاگیری نے بڑھایا سیاسی تذبذب ، جنوری میں لانچ کرسکتے ہیں پارٹی
ایم کے الاگیری کی فائل فوٹو ۔

تمل ناڈو میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ ایسے میں ریاست میں سیاسی اتھل پتھل جاری ہے ۔ اسی درمیان ڈی ایم کے (DMK) کے سابق لیڈر ایم کے الاگیری  (MK Alagiri) ایک مرتبہ پھر سیاسی واپسی کو لے کر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں ۔ الاگیر تمل ناڈو کے سابق وزیراعلی ایم کروناندھی (M Karunanidhi) کے بڑے بیٹے ہیں ۔ انہیں پارٹی سے برخاست کردیا گیا تھا ۔ غور طلب ہے کہ اداکار رجنی کانت (Rajinikanth) کی سیاست میں انٹری کو لے کر بھی ریاست میں قیاس آرائی کا بازار گرم ہے ۔


دوسری طرف یو پی اے سرکار میں مرکزی وزیر رہ چکے الاگیر نے جمعرات کو گوپال پورم نیواس میں زیر علاج اپنی والدہ سے ملاقات کی ۔ اس کے بعد انہوں نے صحافیوں سے بات چیت بھی کی ۔ الاگیری نے بتایا کہ وہ تین جنوری کو حامیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے اور نئی سیاسی پارٹی لانچ کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرے حامی چاہتے ہیں کہ میں نئی پارٹی لانچ کروں ، تو میں ایسا کروں گا ۔ لیکن ڈی ایم کے کی حمایت نہیں کروں گا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجھے ڈی ایم کے کی جانب سے دوبارہ پارٹی جوائن کرنے کیلئے مدعو نہیں کیا گیا ہے ۔


رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے الاگیری کو اپنی جانب لانے کی کافی کوششیں کیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی ریاست میں اگلے اسمبلی انتخابات کی راہ ہموار کرنے میں مصروف ہے ۔ رجنی کانت سے ملاقات کو لے کر الاگیری نے کہا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ اداکار ابھی اناتھی کی شوٹنگ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ وہ حیدرآباد سے واپس لوٹیں گے تو میں ان سے ملاقات کروں گا ۔


الاگیری کو چھوٹے بھائی ایم کے اسٹالن سے تنازع کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا ۔ باہر نکالے جانے سے پہلے انہیں پارٹی کا بڑا نام سمجھا جاتا تھا۔ پارٹی میں ان کی گرفت کا عالم یہ تھا کہ انتخابی اتحاد سے لے کر تشہیری مہم تک پارٹی کے فیصلوں پر ان کی خواہش کا کافی اثر ہوتا تھا ۔

50 سال سے زیادہ عرصہ تک پارٹی کی کمان سنبھالنے والے کروناندھی کے ہاتھ میں پوری طقت ہونے کے باوجود الاگیری کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا ۔ مارچ 2014 میں الاگیری کو پارٹی سے برخاست کردیا تھا ۔ کرونا ندھی نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کی تھی ۔ اس دوران یہ واضح کردیا گیا تھا کہ الاگیری کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 24, 2020 04:29 PM IST