بھوپال: تاریخی الیگزینڈرا رائل نوبل اسکول کی تزئین کاری کا کیاجارہاہے کام

بھوپال میں جدید تعلیم کے لئے شاہجہانی اسکول قائم کیا جو بعد کے عہد میں رائل ایلکزنڈرا نوبل اسکول کے نام سے مشہور ہوا۔اس اسکول میں نوابی عہد میں رائل فیملیز،جاگیردار ،امرا و رؤسا کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔یہ پوری عمارت پی ڈبلیوڈی کی تحویل میں ہے اور گزشتہ سال وقف بورڈ چیرمین کے دفتر کی چھت بھی گر گئی تھی اس کے باؤجود پی ڈبلیوڈی نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔

May 14, 2019 04:25 PM IST | Updated on: May 14, 2019 04:32 PM IST
بھوپال: تاریخی الیگزینڈرا رائل نوبل اسکول کی تزئین کاری کا کیاجارہاہے کام

بھوپال میں نوابی عہد کے تاریخی اسکول کی عمارت کو نئی زندگی دینے کے لئے ایم پی وقف بورڈ نے پہل کردی ہے۔ دیڑھ سو سالہ قدیم اسکول کی عمارت میں مساجد کمیٹی ،وقف بورڈ ،اوقاف عامہ کے دفاتر لگتے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب اس کی تزئین کاری کے لئے قدم اٹھایا گیاہے۔نواب شاہجہاں بیگم کے عہد میں تعمیر کئے گئے رائل الیکزنڈرا اسکول میں کئی عہد میں کام ہوا تھا۔ اس کی پہلی تعمیر تو اٹھارہ سو باہتر میں ہوئی تھی ۔ اس کے بعد انیس سو تین اور انیس پانچ میں اس عمارت کی توسیع کا کام کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فن تعمیر کے لحاظ سے ہمیں اس کی عمارتوں میں بہت فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔

جب بھوپال کی تاریخی تاج المساجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا تو موجودہ میں مساجد کمیٹی کا جس عمارت میں دفتر لگتا ہے یہیں سے منشی حسین خان اس کی تعمیر کا کام دیکھتے تھے۔رائل الیکزنڈرااسکول کی تعمیر کا کام انجینئر مسٹر کک کی نگرانی میں ہوا تھا۔اس کے گیٹ کا افتتاح انیس سو نو میں لارڈ منٹو کے ہاتھوں ہوا تھا ۔جس کا پتھر آج بھی شکستہ حالت میں ہی صحیح موجود ہے ۔دیڑھ سو سالہ اس عمارت میں آزادی کے بعد پہلے ڈی پی آئی اس کے بعدوقف بورڈ،اوقاف عامہ اورمساجد کے دفتر لگ رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب اس کی تزین کاری کا م شروع ہوا ہے۔

Loading...

بھوپال کو نوابوں کی نگری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس شہر پر سترہ سو بائیس سے انیس سو انچاس کے درمیان تک نو مرد اور چار بیگمات کی حکومت رہی ہے ۔ لیکن بھوپال کے عہد زریں کی بات کریں تو بیگمات کے عہد کو بھوپال کے عہد زریں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔بھوپال کی تیسری خاتون فرمانروا نوا ب شاہجہاں بیگم کو عمارتوں کی تعمیر کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے جہاں بھوپال میں ایشیاکی بڑی مسجد تاج المساجد،تاج محل،بھوپال ریلوے اسٹیشن کو تعمیر کروایا وہیں انہوں نے تعلیم کے میدان میں نمایاں کام کئے۔

نواب شاہجہاں بیگم متحدہ ہندستان کی پہلی مسلم صاحب دیوان شاعرہ تھیں ۔ دیوان تاج اور دیوان شیریں ان کی یاد گار ہیں ۔ یہیں انہوں نے خزینۃ الغات کے نام سے چھ زبانوں میں ایک ڈکشنری بھی لکھی تھی۔ ایسی لغت آج تک نہیں لکھی گئی جو بیک وقت چھ زبانوں میں ہو۔ انہوں نے جہاں اپنے عہد میں ایک سو بائیس مدارس قائم کئے وہیں بھوپال میں جدید تعلیم کے لئے شاہجہانی اسکول قائم کیا جو بعد کے عہد میں رائل ایلکزنڈرا نوبل اسکول کے نام سے مشہور ہوا۔اس اسکول میں نوابی عہد میں رائل فیملیز،جاگیردار ،امرا و رؤسا کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔یہ پوری عمارت پی ڈبلیوڈی کی تحویل میں ہے اور گزشتہ سال وقف بورڈ چیرمین کے دفتر کی چھت بھی گر گئی تھی اس کے باؤجود پی ڈبلیوڈی نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ اب ایم پی وقف بورڈ نے اپنے محدود مسائل کو دیکھتے ہوئے خود اس کی تزین کاری کا کام شروع کیاہے۔

Loading...