ہندو مہاسبھا نے باپو کے پتلے پر چلائی گولی: پولیس نے کیس درج کر دو کو کیا گرفتار

اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی قومی سکریٹری پوجا شکون پانڈے اور دیگر کارکنان نے اس پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ اس موقع پر گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ہندو مہاسبھا نے سچا ہندووادی بتایا جبکہ مہاتما گاندھی کے پتلے پر علامتی طور پر تین گولیاں ماری گئیں

Jan 31, 2019 10:48 AM IST | Updated on: Jan 31, 2019 10:48 AM IST
ہندو مہاسبھا نے باپو کے پتلے پر چلائی گولی: پولیس نے کیس درج کر دو کو کیا گرفتار

مہاتما گاندھی کے پتلے کو فرضی پستول سے گولی مارتی پوجا شکون پانڈے

ہندوستان جب کل یعنی بدھ کے روز بابائے قوم مہاتما گاندھی کی برسی پر انہیں یاد کر رہا تھا تب علی گڑھ میں اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے لیڈروں نے شرمناک حرکت کو انجام دیا۔ مہاسبھا کی قومی سکریٹری پوجا شکون پانڈے نے باقاعدہ میڈیا اہلکاروں کے سامنے باپو کے قتل کا جشن منایا اور قاتل ناتھورام گوڈسے کے پتلے پر ہار چڑھایا۔ اس دوران باپو کے پتلے کو فرضی پستول سے تین گولیاں ماری گئیں اور ناتھورام گوڈسے امر رہے کے نعرے لگائے گئے۔

ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سخت گیر ہندو تنظیم اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے دوکارکنوں منوج اور ابھیشیک کو گرفتار کر لیا۔

Loading...

اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کی قومی سکریٹری پوجا شکون پانڈے اور دیگر کارکنان نے اس پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔ اس موقع پر گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ہندو مہاسبھا نے سچا ہندووادی بتایا جبکہ مہاتما گاندھی کے پتلے پر علامتی طور پر تین گولیاں ماری گئیں اور پھر اسے جلا دیا گیا۔ اس دوران گاندھی مردہ باد اور ناتھورام گوڈسے زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

بتا دیں کہ پوجا پانڈے پہلے بھی تنازعات کی زد میں آ چکی ہیں۔ پچھلے سال انہوں نے خود کو ہندو کورٹ کا جج بھی مقرر کیا تھا۔

غورطلب ہے کہ 30 جنوری 1948 کو نئی دہلی واقع بڑلا ہاوس کے احاطہ میں مہاتما گاندھی کا قتل کر دیا گیا تھا۔ باپو قتل معاملے میں ناتھورام گوڈسے سمیت 8 افراد کو سازش میں ملزم بنایا گیا تھا۔ معاملہ میں 5 مجرموں میں سے تین - گوپال گوڈسے، مدن لال پاہوا اور وشنو رام کرشن کرکرے کو تاعمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ دو- ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے کو پھانسی دے دی گئی۔ 15 نومبر 1949 کو گوڈسے اور آپٹے کو انبالہ جیل میں پھانسی دی دی گئی۔

Loading...