உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش میں ایک اور مسجد کو اکھل بھارت ہندو مہاسبھا نے بتایا غیر قانونی ڈھانچہ!

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    مہاسبھا کے قومی خزانچی نے سول جج سینئر ڈویژن کی عدالت میں پیش کیے گئے مقدمے میں کہا ہے کہ اورنگ زیب نے شری کرشن جنم بھومی مندر کو توڑا اور شاہی عیدگاہ کو تجاوزات کے طور پر کھڑا کیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mathura | Lucknow
    • Share this:
      متھرا: متھرامیں شاہی مسجد عید گاہ تنازعہ کے بعد ایک اور نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اکھل بھارت ہندو مہاسبھا کے قومی خزانچی دنیش شرما نے شری کرشنا کی جائے پیدائش کے قریب واقع ایک اور مسجد کو ٹھاکر کیشو دیو کی 13.37 ایکڑ اراضی میں واقع بتایا ہے۔

      عدالت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مسجد غیر قانونی ڈھانچہ ہے۔ حال ہی میں اس پر نئی تعمیر بھی کی گئی ہے جو کہ غلط ہے۔ عدالت سے اسے ہٹانے کی مانگ کی ہے۔

      مہاسبھا کے قومی خزانچی نے سول جج سینئر ڈویژن کی عدالت میں پیش کیے گئے مقدمے میں کہا ہے کہ اورنگ زیب نے شری کرشن جنم بھومی مندر کو توڑا اور شاہی عیدگاہ کو تجاوزات کے طور پر کھڑا کیا۔

      اس کے بعد اورنگ زیب کی اولادوں نے شری کرشن جنم بھومی مندر کی مشرقی حدود پر مبینہ طور پر مینا مسجد بنائی جو غلط ہے اور اسے اس سرزمین سے ہٹایا جائے۔ اس کو لے کر کیے گئے دعوے میں اُن کی جانب سے سنی وقف بورڈ کے علاوہ مینا مسجد کے سکریٹری کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے دعوے پر سماعت کے لیے 26 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

      کاشی وشواناتھ پر 7 رول 11 کا فیصلہ خوش آئند
      اکھل بھار ہندو مہاسبھا کے قومی خزانچی دنیش شرما نے کہا ہے کہ کاشی وشوناتھ کے معاملے میں عدالت کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اسی فیصلے کے بعد متھرا کی عدالت بھی اپنا فیصلہ سنائے گی اور اپوزیشن کی طرف سے 7 رول 11 کی درخواستوں کو خارج کر دے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      جمیعت علما کے دائرے کو منظم انداز میں گاوں گاوں تک پہنچانا وقت کی بڑی ضرورت

      یہ بھی پڑھیں:
      ہریانہ میں بڑھی ائمہ کی سیلری، جانئے اب ایک مہینے میں ملے گی کتنی تنخواہ

      کاشی وشواناتھ کا فیصلہ عدالت میں کریں گے داخل
      شری کرشن جنم ب ھومی مکتی نیاس کے صدر، ایڈووکیٹ مہندر پرتاپ سنگھ نے کہا کہ ہم کاشی وشواناتھ میں شرنگار گوری کے معاملے میں عدالت کی جانب سے 7 رول 11 کو بحث کے بعد خارج کردیا ہے اور کیس پر سماعت شروع ہوگئی ہے۔ ہم اس کیس کی نقل حاصل کررہے ہیں اور منگل کو اس کی نقل عدالت کو سونپیں گے۔ اس فیصلے سے ہندووں کے دعوے کی تصدیق ہوئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: