உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سشمتا دیو سنگھ نے چھوڑی کانگریس، گزشتہ رات سونیا گاندھی کو سونپا استعفیٰ

    Sushmita Dev Singh نے گزشتہ رات سونیا گاندھی کو اپنا استعفیٰ سونپا اور اپنے ٹوئٹر پروفائل پر کانگریس کی سابق رکن بھی جوڑ لیا ہے۔

    Sushmita Dev Singh نے گزشتہ رات سونیا گاندھی کو اپنا استعفیٰ سونپا اور اپنے ٹوئٹر پروفائل پر کانگریس کی سابق رکن بھی جوڑ لیا ہے۔

    Sushmita Dev Singh نے گزشتہ رات سونیا گاندھی کو اپنا استعفیٰ سونپا اور اپنے ٹوئٹر پروفائل پر کانگریس کی سابق رکن بھی جوڑ لیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آسام سے کانگریس کا بڑا چہرہ رہیں سشمتا دیو سنگھ (Sushmita Dev Singh) نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ شب کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی کو اپنا استعفیٰ سونپا اور ٹوئٹر پر اپنی پروفائل میں کانگریس کی سابق رکن بھی جوڑ لیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کانگریس خواتین صدر کے عہدہ کے آگے بھی سابق لگا دیا ہے۔ واضح رہے کہ سشمتا دیو سنگھ کانگریس کی اہم خاتون لیڈر تھیں۔ وہ آل انڈیا مہیلا کانگریس کے صدر کے عہدے پر فائز تھیں۔ حالانکہ ابھی تک ان کے استعفیٰ کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

      واضح رہے کہ سشمتا دیو سنگھ آسام کے سلچر سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔ موجودہ وقت میں وہ آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر کی ذمہ داری سنبھال رہی تھیں۔ ان کے والد بنگال کانگریس کے بڑے لیڈروں میں سے ایک تھے۔ سشمتا دیو سنگھ کو راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا قریبی مانا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کا استعفیٰ کیوں ہوا ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو پایا ہے۔ سشتا دیو سنگھ کا آخری ٹوئٹ ایک ری ٹوئٹ ہے، جسے اکھل بھارتیہ مہیلا کانگریس نے ٹوئٹ کیا ہے۔ یہ ٹوئٹ دہلی میں 9 سالہ بچی کے ساتھ آبروریزی کے حادثہ کی مخالفت میں مہیلا کانگریس کے احتجاج سے متعلق ہے۔

      ہندوستان ٹائمس کے مطابق، سونیا گاندھی کو بھیجے گئے خط میں سشمتا دیو سنگھ نے لکھا ہے کہ وہ جن سیوا کے میدان میں نئے باب کی شروعات کرنے جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ سشمتا دیو سنگھ کانگریس پارٹی کی ان لیڈروں میں شامل ہیں، جن کا ٹوئٹر اکاونٹ کمپنی نے لاک کردیا تھا۔ ٹوئٹر نے یہ کارروائی راہل گاندھی کے ذریعہ دہلی کی آبروریزی متاثرہ کے والدین کے ساتھ ملاقات کے بعد تصویر ٹوئٹ کرنے پر کی تھی۔ سشمتا دیو سنگھ پر کانگریس پارٹی کا ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں آیا ہے۔ سشمتا دیو سنگھ کے پارٹی جھوڑ کر جانے سے کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ حالانکہ آسام اسمبلی انتخابات کے دوران بھی ٹکٹ تقسیم کو لے کر سشتما دیو سنگھ کی ناراضگی سامنے آئی تھی۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: