ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ کےفیصلےکےخلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ کا نظرثانی کی عرضی داخل کرنےکا فیصلہ

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤکے ممتازڈگری کالج میں تین گھنٹے چلی میٹنگ کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نےیہ فیصلہ لیا۔ جمعیۃ علماء ہند نے بھی ریویوپٹیشن داخل کرنےکا اعلان کیا ہے۔

Nov 17, 2019 04:14 PM IST | Updated on: Nov 17, 2019 04:45 PM IST
ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ کےفیصلےکےخلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ کا نظرثانی کی عرضی داخل کرنےکا فیصلہ

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ریویو پٹیشن داخل کرنے کا فیصلہ

لکھنؤ: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی عرضی داخل کرے گا۔ اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ممتازڈگری کالج میں تین گھنٹے چلی میٹنگ کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے یہ فیصلہ لیا۔ بورڈ کی پریس کانفرنس میں سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بورڈ نے طے کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پرریویو پٹیشن ( نظرثانی کی عرضی) داخل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے ساتھ ہی فیصلہ کیا ہے کہ مسجد کے لئے دی گئی پانچ ایکڑکی زمین منظورنہیں ہے۔

پرسنل لاء بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بورڈ کے صدرحضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہوئی۔ اس میٹنگ میں سپریم کورٹ کےایودھیا فیصلے کے 10 نکات پرتبادلہ خیال کیا گیا، جن میں خاص طورپرسپریم کورٹ نے تسلیم کیا ہےکہ 1857 سے 1949 تک بابری مسجد کے تین گنبد والی عمارت اورمسجد کا اندرونی حصہ مسلمانوں کے قبضےاوراستعمال میں رہا ہے۔ آخری نماز16 دسمبر1949 کوپڑھی گئی تھی۔ 22/23 دسمبر، 1949 کی شب بابری مسجد کے بیچ والےگنبد کے نیچےغیرآئینی طریقے سے رام چندرجی کی مورتی رکھ دی گئی اوربیچ والے گنبد کے نیچے کی زمین پرجائے پیدائش (جنم استھان) کے طورپرپوجا کیا جانا ثابت نہیں ہے۔

ہم مسجد کی جگہ کوئی زمین نہیں لے سکتے: ارشد مدنی اس سے قبل میٹنگ کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدرمولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہم فیصلے کے خلاف نظرثانی کی عرضی داخل کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ ہمیں معلوم ہےکہ ریویوپٹیشن کا حال کیا ہونا ہے، لیکن پھربھی ہمارا یہ حق ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم نہ مسجد کو دے سکتے ہیں اورنہ ہی اس کی جگہ کوئی زمین لے سکتے ہیں۔  مقدمے میں ہمیں ہمارا حق نہیں دیا گیا۔ معاملے میں جمعیۃ علماء ہند ریویوپٹیشن داخل کرے گی۔  

اقبال انصاری کا معاملہ ختم کردینے کا مشورہ

وہیں دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ پر بابری مسجد معاملے میں فریق رہے اقبال انصاری نے کہا ہے کہ اس مسئلے کویہیں پرختم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ آگیا، فیصلے کوہم نے مان بھی لیا اوراب ہم آگے نہیں جانا چاہتے۔ ہم ہندوستان کے مسلمان ہیں اورہندوستان کا آئین بھی مانتے ہیں۔ اقبال انصاری نے کہا کہ ہندوستان کا اہم فیصلہ تھا۔ ہم اب اس معاملے کوآگے نہیں بڑھائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کویہیں پرختم کردیا جائے، جتنا ہمارا مقصد تھا۔ اتنا میں نے کیا۔ گھراللہ کا ہے اوراللہ مالک ہے۔ انہوں نے عدالت نے جوفیصلہ کردیا، اسے مان لو۔ ایودھیا سمیت پورے ملک میں امن وامان کا ماحول بنا رہے، ملک ترقی کرے۔

Loading...