உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عیدالاضحیٰ سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مسلمانوں سے بڑی اپیل، رہنما خطوط جاری

    ملک میں نفرت کا ماحول اور موجودہ حالات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مسلم تنظیموں کی جانب سے امن اور قربانی کو لے کر رہنما خطوط جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ملک میں نفرت کا ماحول اور موجودہ حالات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مسلم تنظیموں کی جانب سے امن اور قربانی کو لے کر رہنما خطوط جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ملک میں نفرت کا ماحول اور موجودہ حالات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مسلم تنظیموں کی جانب سے امن اور قربانی کو لے کر رہنما خطوط جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: ملک میں نفرت کا ماحول اور موجودہ حالات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مسلم تنظیموں کی جانب سے امن اور قربانی کو لے کر رہنما خطوط جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلم تنظیموں کی جانب سے عید کی نماز سڑکوں پر ادا نہ کرنے، قربانی کے جانور کو سرعام ذبح نہ کرنے اور صاف صفائی پر مبنی گائیڈ لائن این جاری کی جارہی ہے۔ اسی ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے اپیل جاری کی ہے۔

    آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا ہے کہ عید قرباں مسلمانوں کا نہایت اہم تہوار ہے، جو اللہ کے دو پیغمبروں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد دلاتا ہے اور ہمیں اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ ہم اللہ کی رضا کی خاطر ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہیں اور عقیدۂ توحید پرثابت قدم رہیں۔

    اس موقع پرجانوروں کی قربانی بھی کی جاتی ہے، شریعت کا یہ حکم مالدار مسلمانوں سے متعلق ہے اور دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی اس کا تصور موجود ہے، لیکن قربانی کرتے ہوئے یہ بات ضروری ہے کہ ہم کوئی ایسا عمل نہ کریں جو دوسرے بھائیوں کے لئے دل آزاری کا سبب ہو، امن کو نقصان پہنچے، گندگی پھیلے، تعفن پیدا ہو، جانور کا متعفن حصہ سرِ راہ اور آبادیوں کے اندر پھینک دیا جائے، یہ ساری باتیں شریعت کے بھی خلاف ہیں۔

    آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مزید کہا کہ اخلاق کے بھی اور قانون کے بھی، صحت کی حفاظت اور سماج کو بیماریوں سے بچانا سبھوں کی ذمہ داری ہے، اس لئے حکومت نے غلاظتوں کے پھینکنے کے لئے جو جگہ مقرر کی ہے، ان کو وہیں پھینکنا چاہئے، صفائی ستھرائی اور بھائی چارے کی برقراری کا خیال رکھنا چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: