உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن سے ایک دن پہلے ہوگی کل جماعتی میٹنگ، وزیر اعظم مودی بھی ہوسکتے ہیں شامل

    پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن سے پہلے ہوگی کل جماعتی میٹنگ، وزیر اعظم مودی بھی ہوسکتے ہیں شامل ۔

    پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن سے پہلے ہوگی کل جماعتی میٹنگ، وزیر اعظم مودی بھی ہوسکتے ہیں شامل ۔

    All party meeting,Parliament Session, PM Narendra Modi: پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہوکر 23 دسمبر تک چلے گا ۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے ایک آفیشیل پریس نوٹ میں جانکاری دی گئی ہے کہ سترہویں لوک سبھا سیشن پیر 29 نومبر سے شروع ہوگا اور اس کے ختم ہونے کا امکان 23 دسمبر تک ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 28 نومبر سے شروع ہونے جارہا ہے ۔ اس سے ایک دن پہلے 28 نومبر یعنی اتوار کو کل جماعتی میٹنگ ہوگی ۔ میڈیا رپورٹس کی مانیں تو یہ میٹنگ اتوار کو صبح گیارہ بجے ہوگی ۔ مانا جارہا ہے کہ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوسکتے ہیں ۔ اس میٹنگ میں سرمائی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کو ٹھیک طرح سے چلانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ چرچا ہوسکتی ہے ۔ فی الحال ابھی وزیر اعظم دفتر کی طرف سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ وزیر اعظم مودی کل جماعتی میٹنگ میں شامل ہوں گے یا پھر نہیں ۔

      پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہوکر 23 دسمبر تک چلے گا ۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے ایک آفیشیل پریس نوٹ میں جانکاری دی گئی ہے کہ سترہویں لوک سبھا سیشن پیر 29 نومبر سے شروع ہوگا اور اس کے ختم ہونے کا امکان 23 دسمبر تک ہے ۔

      پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ایک مرتبہ پھر سے شورو ہنگامہ کا امکان ہے ۔ اپوزیشن پارٹی سرکار کے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے معاملہ کو بھی اس سیشن میں اٹھا اسکتی ہیں ۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں سرکار کو پارلیمنٹ کے اندر گھیرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں تو کسان بھی حکمت عملی بناکر پارلیمنٹ کے باہر سرکار کو گھیرنے کیلئے تیار ہیں ۔ کسان تنظیموں نے 29 نومبر کو پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔

      زرعی قوانین کی واپسی کے بعد اب اپوزیشن پارٹیاں اور کسان ایم ایس پی کے معاملہ پر سرکار سے سوال کررہے ہیں ۔ زرعی قوانین کی واپسی کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کسانوں کو کھلا خط لکھ کر کہا تھا کہ کسان بھائیو! ابھی جدوجہد ختم نہیں ہوئی ہے ، ایم ایس پی کا معاملہ ابھی بھی پہلے جیسا ہے ۔

      کسانوں کے مطالبہ کے ساتھ اپوزیشن مسلسل بڑھتی منہگائی پر بھی سرکار کو گھیرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: