ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: یوگی حکومت کی مذہب تبدیلی والے آرڈیننس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، منسوخ کرنے کا مطالبہ

الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس سلامت انصاری معاملے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ آرڈیننس زندگی کے حقوق دفعہ -21 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عرضی میں اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • Share this:
اترپردیش: یوگی حکومت کی مذہب تبدیلی والے آرڈیننس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، منسوخ کرنے کا مطالبہ
یوگی حکومت کی مذہب تبدیلی والے آرڈیننس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، منسوخ کرنے کا مطالبہ

پریاگ راج: ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح اترپردیش میں بھی ’لو جہاد’ (Love Jihad) کے خلاف قانون لانے پر یوگی حکومت (Yogi Government) نے آخری مہر لگا دی ہے۔ اسی ضمن میں یوگی حکومت کے لو جہاد سے منسلک مذہب تبدیلی والے آرڈیننس کو الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) میں چیلنج کیا گیا ہے۔ آرڈیننس کو اخلاقی اور آئینی طور پر غیر قانونی بتاتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں اس قانون کے تحت استحصال پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ سوربھ کمار کی جانب سے یہ عرضی داخل کی گئی ہے۔


عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 31 اکتوبر 2020 کو بیان دیا تھا کہ یوپی حکومت لو جہاد کے خلاف قانون لائے گی۔ وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ مسلم نوجوانوں کے ذریعہ ہندو لڑکی سے شادی، مذہب تبدیل کرانے کی سازش کا حصہ ہے۔ سنگل بینچ نے شادی کے لئے مذہب تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان آیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ دو باغل شادی کرسکتے ہیں۔ عدالت نے مذہب تبدیل کرکے شادی کرنے کو غلط نہیں مانا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ہر ایک شخص کو اپنی پسند کا جیون ساتھی اور مذہب منتخب کرنے کا حق ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس سلامت انصاری معاملے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ آرڈیننس زندگی کے حقوق دفعہ -21 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عرضی میں اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔


الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس سلامت انصاری معاملے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ آرڈیننس زندگی کے حقوق دفعہ -21 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عرضی میں اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس سلامت انصاری معاملے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ آرڈیننس زندگی کے حقوق دفعہ -21 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عرضی میں اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔


50 ہزار روپئے تک کا جرمانہ

اترپردیش کابینہ نے شادی کے لئے غیر قانونی تبدیلی مذہب کے تجویز کو منگل کو منظوری دے دی۔ اس سے قبل ریاستی حکومت کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں ہوئی ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں شادی کے لئے دھوکہ دہی کرکے مذہب تبدیل کئے جانے کے حادثات پر پابندی لگانے سے متعلق قانون کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ کابینہ میں تجویز منظور ہونے کے بعد 15 ہزار سے 50 ہزار روپئے تک کا جرمانہ عائد کئے جانے کا التزام ہے۔ وہیں شادی کے نام پر مذہب تبدیلی کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ اگر کوئی بفھی گروپ مذہب تبدیل کراتا ہے تو اسے 3 سے 10 سال کی سزا بھی ہوگی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 12, 2020 09:20 AM IST