உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyanvapi Masjid Case: ہائی کورٹ میں 31 سال پرانے معاملے میں سماعت، مقدمے کی میرٹ کو دیا گیا چیلنج

    Gyanvapi Masjid Case: آج ہے اہم سماعت۔

    Gyanvapi Masjid Case: آج ہے اہم سماعت۔

    Gyanvapi Masjid Case: الہ آباد ہائی کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 15 جولائی کی تاریخ طے کی ہے۔ جسٹس پرکاش پاڈیا کی سنگل بینچ میں معاملے کی سماعت ہوئی۔ وارانسی کی ضلع عدالت میں 31 سال پہلے 1991 میں مقدمہ داخل ہوا تھا۔ اس مقدمے کی ویلیڈیٹی کو ہائی کورٹ میں چیلنج دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      پریاگ راج: گیان واپی تنازعہ سے متعلق معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ میں آج یعنی بدھ کو سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ میں تقریباً ایک گھنٹے تک چلی سماعت میں مندر فریق نے اپنی دلیلیں پیش کیں۔ آئندہ سماعت پر مسلم فریق کی طرف سے بحث کی جائے گی۔ اس کے بعد اس معاملے میں یوپی حکومت بھی اپنا موقف رکھے گی۔ معاملے میں آئندہ سماعت  15 جولائی کو ہوگی۔

      جسٹس پرکاش پاڈیا کی سنگل بینچ میں معاملے کی سماعت ہوئی۔ جسٹس پرکاش پاڈیا کی سنگل بینچ میں معاملے کی سماعت ہوئی۔ وارانسی کی ضلع عدالت نے 31 سال پہلے 1991 میں مقدمہ داخل ہوا تھا۔ اس مقدمے کی مدت کو ہائی کورٹ میں چیلنج دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کو یہ طے کرنا ہے کہ مقدمے کی سماعت ہوسکتی ہے یا نہیں۔

      اے ایس آئی سے کھدائی کراکر سروے کرائے جانے سمیت کئی دیگر موضوعات پر بھی بحث ہونی ہے۔ گیان واپی تنازعہ کو لے کر 5 عرضیاں داخل ہیں۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی اور یوپی سنگل سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سے عرضیاں داخل ہیں۔ مسجد انتظامیہ کمیٹی اور یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سے عرضیاں داخل ہیں۔ فی الحال ہائی کورٹ کے حکم سے 31 جولائی تک متنازعہ کیمپ کے سروے پر روک رہے گی۔

      وہیں گیان واپی-شرنگار گوری معاملے میں وارانسی کورٹ میں سماعت چل رہی ہے۔ منگل کو 2 گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی سماعت میں مسلم فریق کی بحث پوری ہوگئی اور اب ہندو فریق کورٹ کے سامنے اپنی دلیلیں رکھ رہا ہے۔ ہندو فریق کی طرف سے آج یعنی 13 جولائی کو بھی بحث جاری رہا اور ہندو فریق اپنی بحث پوری کرے گا اور عرضی کی پائیداری (میرٹ) کو لے کر اپنی دلیل رکھے گا۔

      حکومت کے ضلعی وکیل رانا سنجیو سنگھ نے بتایا کہ مسلم فریق نے عرضی کی میرٹ (عرضی سماعت کرنے کے لائق ہے یا نہیں) پر اپنی دلیلیں دینے کا کام پورا کرلیا۔ اس کے بعد ہندو فریق نے اپنی بحث شروع کی، جو بدھ کے روز بھی جاری رہی۔ ہندو فریق کے وکیل مدن موہن یادو نے بتایا کہ مسلم فریق نے سابقہ قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمے کی میرٹ پر سوال اٹھایا اور عدالت سے گزارش کی کہ وہاس مقدمے کو خارج کردے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: