ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روشن باغ میں جاری احتجاج کو الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلا کی ملی حمایت ، مفت قانونی مدد کا اعلان

ہائی کورٹ کے وکلا نے سبھی افراد کا کیس بلا معاوضہ لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ احتجاجی دھرنے میں وکلا کے شامل ہونے سے شہریت قانون مخالف تحریک میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روشن باغ میں جاری احتجاج کو الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلا کی ملی حمایت ، مفت قانونی مدد کا اعلان
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف روشن باغ میں جاری احتجاج کو الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلا کی ملی حمایت ، مفت قانونی مدد کا اعلان

الہ آباد : شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف روشن باغ میں جاری احتجاجی دھرنے کو الہ آباد ہائی کورٹ کے وکلا نے مفت قانونی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی پولیس کی طرف سے اب تک تقریباً  ڈیڑھ سو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔ ہائی کورٹ کے وکلا نے سبھی افراد کا کیس بلا معاوضہ لڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ اب تک احتجاجی دھرنے سے دور رہنے والے وکلا بھی احتجاجی دھرنے میں شامل ہو گئے ہیں۔ احتجاجی دھرنے میں وکلا کے شامل ہونے سے شہریت قانون مخالف تحریک میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔


الہ آباد ہائی کورٹ کی قانونی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی اہمیت بھی رہی ہے ۔ ماضی میں ہائی کورٹ کے وکلا نے کئی سیاسی تحریکوں کی قیادت بھی کی ہے ۔ جنگ آزادی اور ایمرجنسی کے دوران ہائی کورٹ کے وکلا نے آزادی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے طویل سیاسی لڑائی بھی لڑی تھی ۔ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف روشن باغ میں جاری خواتین کے احتجاجی دھرنے میں پہنچ کر وکلا نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور احتجاج کو اپنی مکمل حمایت دینے کا اعلان کیا۔


اب ہائی کورٹ کے وکلا بھی اعلانیہ طور پر احتجاجی دھرنے میں شامل ہو گئے ہیں ۔ روشن باغ میں جاری احتجاجی دھرنے کو اٹھارہ دن پورے ہو گئے ہیں ۔ 18 دن گزرنے کے بعد بھی خواتین کے جوش و خروش میں کسی طرح کی کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے ۔ گرچہ مقامی پولیس کئی مرتبہ دھرنے کو  ختم کرانے کی کوشش کر چکی ہے۔ تاہم پولیس کوابھی تک اس کوشش میں ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے۔


دھرنے میں شامل ہونے والے وکلا بھی احتجاج کو ختم کرنے کے موڈ میں نہیں دکھائی دے رہے ہیں ۔ روشن باغ احتجاجی دھرنے میں ہائی کورٹ کے وکلا کے شامل ہونے سے دھرنے پر بیٹھی خواتین کو ایک نئی طاقت مل گئی ہے ۔ اس موقع پر وکلا نے دھرنے پر بیٹھی خواتین اور نوجوانوں کو اطمینان دلایا کہ حکومت کی کسی بھی کارروائی کے خلاف ان کو مفت قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔
First published: Jan 29, 2020 06:41 PM IST