ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش میں NSAکا غلطاستعمال،الہٰ آباد ہائی کورٹ نے 120میں94 مقدمات کوکیا خارج،رپورٹ

ملزم کو مناسب کارروائی کی سہولت فراہم کرنے سے انکار، دوران کیس ضمانت کو روکنے کے لئے قانون کا بار بار استعمال اور فوری حراست میں لینے، اترپردیش پولیس (Uttar Pradesh Police) کی ایسی کارروائیاں ہیں، جس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت تنقید کی ہے اور بیشر مقدمات کو خارج کردیا ہے۔

  • Share this:
اترپردیش میں NSAکا غلطاستعمال،الہٰ آباد ہائی کورٹ نے 120میں94 مقدمات کوکیا خارج،رپورٹ
اترپردیش پولیس کررہی ہے NSAکا غلط استعمال، الہٰ آباد ہائی کورٹ نے 120 میں94 مقدمات کو کیا خارج

جنوری 2018 سے دسمبر 2020 کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court ) نے 120 حبس جا (habeas corpus petitions) درخواستوں کے ضمن میں فیصلہ سنایا ہے،جنھیں این ایس اے کے تحت حراست میں رکھا گیاہے۔ کورٹ نے 94 حراستیوں کے تحت 32 اضلاع میں ضلعی مجسٹریٹ (DM) کے احکامات کو منسوخ کردیا ہے اور زیر حراست افراد کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جس کے بعد این ایس اے کے تحت دائر کیے مقدمات اور بے جا حراستوں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔اس بڑے فیصلے سے متعلق پولیس ایف آئی آرز (POLICE FIRs ) مختلف جگہوں پر کلیدی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔عدالت کا کہناہے کہ  ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے نظربندی کے احکامات سے متعلق جہاں جپاں دستخط کیے ہیں، ان سے عدم اطمینان ظاہر ہوتا ہے۔


ملزم کو مناسب کارروائی کی سہولت فراہم کرنے سے انکار، دوران کیس ضمانت کو روکنے کے لئے قانون کا بار بار استعمال اور فوری حراست میں لینے، اترپردیش پولیس (Uttar Pradesh Police) کی ایسی کارروائیاں ہیں، جس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے سخت تنقید کی ہے اور بیشر مقدمات کو خارج کردیا ہے۔


ایک پولیس اہلکارکی فائل فوٹو
ایک پولیس اہلکارکی فائل فوٹو


الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت کی جانب سے نہایت ہی ظالمانہ قانون قومی سلامتی ایکٹ  (National Security Act) کا جس طرح استعمال کیا گیا ہے، اس کو نشان زدکیاہے۔ جو ریاست کو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے گرفتاری کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے مذکورہ معاملہ سے متعلق پولیس اور عدالت کے ریکارڈس کی تفصیلات کے ساتھ تحقیقی انداز میں تحقیقی رپورٹ کو شائع کیاہے۔

تفصیلات کے مطابق این ایس اے کے تحت درج کیے معاملات میں گاؤ کشی کے تحت حراست پہلا زمرہ ہے۔ گاؤ کشی کے تحت 41 مقدمات زیر دوران ہیں۔ جو ہائی کورٹ تک پہنچنے والی کل تعداد کے ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے تمام ملزمان کا تعلق اقلیتی برادری سے ہیں اور انہیں گائے کے قتل کے الزام (cow slaughter) میں ایف آئی آر کی بنیاد پر ضلعی مجسٹریٹ نے حراست میں لیا تھا۔ان میں سے 30 (70٪ سے زیادہ) کیسوں کو ہائی کورٹ نے یوپی حکومت کی جانب سے بے جا زیادتی کہہ کر این ایس اے کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کی رہائی کا حکم دیاہے۔

اترپردیش پولیس
اترپردیش پولیس


یہاں تک کہ باقی 11 گاؤ کشی کے معاملات میں جہاں حکومت نے حراست کو برقرار رکھا، اس میں سے سوائے ایک کے نچلی عدالت اور ہائی کورٹ نے بعد میں ملزمین کی ضمانت منظور کرلی جس سے یہ واضح ہوگیا کہ انھیں عدالتی تحویل میں رکھنے کی ضرورت سرے سے تھی ہی نہیں۔گاؤ کشی کے ہر معاملے میں دی انڈین ایکسپریس کے ذریعہ تفتیش کردہ ریکارڈز میں ڈی ایمز نے بتایا کہ این ایس اے سے استدعا کی وجہ یہ تھی کہ ملزمان ضمانت کے لئے رجوع ہوئے تھے اور ان کی رہائی جلدہی ہونے والی تھی۔ اس طرح اگر وہ ملزم جیل سے باہر چلا جاتا تو وہ دوبارہ عوامی نظم و ضبط کو نقصان پہنچاتے ہوئے نفرت و تعصب پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہوجاتا۔

انڈین ایکسپریس کی تفتیش میں عدالتوں کے ذریعہ کیے گئے اعتراضات کی نشاندہی کی گئی جبکہ حکومت نے گاؤ کشی کے الزام میں این ایس اے کے احکامات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ ہر ایک کے لئے ایک ہی وضاحتی کیس درج ہے۔ اس کے کچھ اہم نکات یہاں پیش ہیں:

* زیادہ تر 11 نظربندیوں میں عدالتی حکم منظور کرتے ہوئے ڈی ایم نے قانونی فہم فرارثت مظاہرہ نہیں ہے۔

* 13حراستوں کے معاملوں میں عدالت نے حراست میں لئے گئے شخص کو این ایس اے کو چیلینج کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے اپنی نمائندگی کرنے کا موقع سے انکار کردیاہے۔

* سات نظربندی کے کیسوں میں عدالت نے نوٹ کیا کہ یہ مقدمات امن و امان اور نظم و نسق کے دائرے میں آئے ہیں، جن کے لیے این ایس اے کے تحت درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

* چھ نظربندیوں میں عدالت نے کہا کہ این ایس اے کو قید تنہائی کے کیس کی بنیاد پر عائد کیا گیا، جبکہ ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

چند ایف آئی آر ایسے بھی ہیں، جن میں صرف ’کٹ اور پیسٹ‘ سے کام لیا گیا اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ نو نظربندیوں میں این ایس اے کو ایف آئی آر کی بنیاد پر عائد کیا گیا تھا جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ پولیس نے محض اسی بنیاد پر کارروائی کی تھی۔ جس میں گاؤ کشی سے متلعق نامعلوم افراد کی جانب سے معلومات فراہم کرنا کا ذکر کیا گیا ہے۔

تیرہ نظربندیاں ایف آئی آر پر مبنی تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مبینہ طور پر گاؤ کشی کھلی زرعی میدان یا جنگل میں کی گئی ہے۔نو حراستیوں میں ضلع مجسٹریٹ نے ایف آئی آر پر انحصار کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ طور پر یہ قتل نجی رہائش گاہ کی چار دیواری کے اندر ہوئے ہیں اور پانچ نظربندیوں میں ڈی ایمز نے ایف آئی آر پر انحصار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مبینہ طور پر ذبح ایک دکان کے باہر ہوا۔

گاؤ کشی سے متعلق مقدمات کے41 فیصلوں کو الہ آباد ہائی کورٹ کے صرف دو ججوں پرمشتمل 10بینچوں نے شنوائی کی۔ جس میں کل 16 جج شامل تھے۔

انڈین ایکسپریس نے یو پی کے چیف سکریٹری آر کے تیواری کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھجوایا جس کے ذریعہ ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا گیا ہے کہ آیا ڈی ایمز کے جاری کردہ این ایس اے کے احکامات کا کوئی جائزہ لیا گیا ہے جسے ہائی کورٹ نے سرے سے خارج کردیا ہے۔چیف سکریٹری سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا ڈی ایمز این ایس اے کی درخواست کرنے سے پہلے عدالتی فیصلے مضبوط جانچ اور توازن کے ساتھ کیے گئے ہیں اور کیا حکومت نے ان فیصلوں پر نظرثانی کرنے یا اس پر اپیل کرنے کے بارے میں کچھ سوچا ہے؟

کوئی جواب نہیں ملا!

صرف ایف آئی آر کا مواد ہی نہیں یہاں تک کہ ڈی ایمز کے ذریعہ این ایس اے کے احکامات میں حراست کی جن بنیادوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ حیرتناک حد تک یکساں ہیں اور بہت سارے معاملات میں اشتہاراتی مواد پر مبنی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔

ان پر غور کریں:

* سات قیدیوں پر گاؤ کشی کا الزام لگاتے ہوئے این ایس اے کے احکامات میں کہا گیا ہے کہ ’خوف و دہشت کی فضا نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے‘۔

* چھ نظربندیوں کے معاملوں میں این ایس اے کے احکامات میں چھ مماثل بنیادیں استعمال کی گئیں۔ اس میں کہا گیا کہ کچھ نامعلوم افراد موقع سے فرار ہوگئے۔ اس واقعے کے چند منٹ بعد پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔

’پولیس پارٹی پر حملے کی وجہ سے لوگوں نے ہیلٹر مچانا اور دوڑنا شروع کردیا اور صورتحال کشیدہ ہوگئی ہے‘۔

’لوگوں نے محفوظ جگہ تک پہنچنے کے لئے بھاگنا شروع کیا اور جائے پناہ حاصل کی‘۔

’اس طرح کی کشیدہ ماحول کی وجہ سے لوگ اپنے دن کے کاموں کو صحیح ڈھنگ کو پورا نہیں کرسکے‘۔

’ملزم کے اس فعل کی وجہ سے علاقے کی امن و سکون اور نظم و نسق کی صورتحال بری طرح سے متاثر ہوگئ‘۔

* دو حراستوں کے معاملوں میں این ایس اے کے احکامات کی ایک جیسی بنیاد ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ’خاص طور پر خواتین گھر سے باہر جاکر اپنا معمول کا کام کرنے سے گریزاں تھی‘ اور اس سے زندگی بری طرح متاثر ہوئی اور عوامی نظم و ضبط بھی بکھر گیا۔

* دو دیگر نظربندیوں کے کیسوں میں بنیادیں ایک جیسی تھیں۔ اس میں بتایا گیا کہ خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی تھی۔ ’قریبی لڑکیوں کا اسکول بھی پڑوس کے گھروں کے دروازوں کے ساتھ ہی بند کردیا گیا تھا‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 06, 2021 04:58 PM IST