ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو تشدد کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، یوگی حکومت کو دی یہ ہدایت

ہائی کورٹ نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں طلبہ پر تشدد کرتے دکھائی دینے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا بھی ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے۔

  • Share this:
اے ایم یو تشدد کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، یوگی حکومت کو دی یہ ہدایت
الہ آباد ہائی کورٹ ۔ فائل فوٹو ۔

الہ آباد: شہریت قانون کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس تشدد کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے پولیس تشدد کا شکار ہونے والے اے ایم یو طلبہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریاستی حکومت سے مالی معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں طلبہ پر تشدد کرتے دکھائی دینے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا بھی ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ پولیس کو خصوصی تربیت دی جائے ۔ تاکہ اس طرح کی صورتحال سے پولیس اہلکار پیشہ وارانہ طریقے سے نمٹ سکیں اور بے قصور شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔


ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور اے ایم یو کے وائس چانسلر کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اے ایم یو میں اس طرح کے واقعات دو بارہ نہ ہوں ۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی اس عبوری رپورٹ کی بنیاد پر دیا ہے ، جو الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق اس معاملہ کی جانچ  کے بعد عدالت میں داخل کی گئی ہے ۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ریاستی حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز افواہ پھیلانے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ امن خان اور محمد عامر کی طرف سے داخل عرضیوں پر سماعت کے بعد سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاست کے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے ، جس میں ان کو اپنا جواب داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔ ہائی کورٹ آئندہ 25 مارچ کو اس معاملہ کی اگلی سماعت کرے گا۔


واضح رہے کہ گزشتہ 15 دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہونے والی پولیس فائرنگ اور پولیس کی طرف سے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملہ کی جانچ قومی انسانی حقوق کمیشن کے سپرد کی گئی تھی ۔ اے ایم یو کے اولڈ بوائے محمد امن خان کی طرف سے داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن اے ایم یو میں ہونے والی پولیس کارروائی کی جانچ ایک ماہ میں پوری کرکے اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرے ۔ عرضی گزار کے سید فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ قومی انسانی حقوق کی رپورٹ میں حقائق سامنے آنے کے بعد ہائی کورٹ نے یہ حکم نامہ جاری کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے تشدد میں شامل پولیس اہلکاروں کو ایک سخت پیغام جائے گا۔

First published: Feb 24, 2020 09:27 PM IST