உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک سے غداری معاملے میں شرجیل امام کو بڑی راحت، Allahabad High Court نے ضمانت منظور کرلی

    ملک سے غداری معاملے میں شرجیل امام کو بڑی راحت، الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرلی

    ملک سے غداری معاملے میں شرجیل امام کو بڑی راحت، الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرلی

    الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سومتر دیال سنگھ کی بینچ نے انہیں ضمانت دے دی، حالانکہ اس سے متعلق ہائی کورٹ کا تفصیلی آرڈر اب تک نہیں آیا ہے۔ شرجیل امام پر ہندوستانی حکومت اور ہندوستانی مسلح افواج کے خلاف نفرت پھیلانے، دو برادری کے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کرنے اور قوم کا اتحاد، سالمیت اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق الزام ہیں۔

    • Share this:
      پریاگ راج: سی اے اے - این آرسی احتجاجی مظاہرہ (CAA-NRC Protest) کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں مبینہ طور پر ’قوم مخالف تقریر‘ دینے کو لے کر علی گڑھ میں درج ملک سے غداری کے معاملے میں شرجیل امام (Sharjeel Imam) کو ہفتہ کے روز ضمانت مل گئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سومتر دیال سنگھ کی بینچ نے انہیں ضمانت دے دی، حالانکہ اس سے متعلق ہائی کورٹ کا تفصیلی آرڈر اب تک نہیں آیا ہے۔

      شرجیل امام پر ہندوستانی حکومت اور ہندوستانی مسلح افواج کے خلاف نفرت پھیلانے، دو برادری کے درمیان دشمنی اور نفرت پیدا کرنے اور قوم کا اتحاد، سالمیت اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق الزام ہیں۔

      کون ہیں شرجیل امام اور کیا ہے الزام

      جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم اور شاہین باغ میں ہوئے سی اے اے- این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے آرگنائزروں میں سے ایک شرجیل امام کو گزشتہ سال بہار کے جہان آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ اپنے خطاب میں مبینہ طور پر مظاہرین کو شمال مشرقی ہندوستان کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کے لئے اکسایا۔ اس معاملے میں شرجیل امام کے خلاف منی پور، آسام اور اروناچل پردیش کی پولیس نے بھی ایف آئی آر کی تھی۔ حالانکہ آسام اور اروناچل پردیش کے معاملے میں اسے پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔

      شرجیل امام کے خلاف اترپردیش کے علی گڑھ میں اور دہلی پولیس کے ذریعہ جنوری 2020 میں آئی پی سی کی دفعہ اے (ملک سے غداری) اور 153 اے (مذہب، ذات، جائے پیدائش، رہائش، زبان، ذات یا برادری یا کسی دیگر دفعات پر دشمنی یا دشمنی کے جذبات کو بڑھاوا دینے کی کوشش) تعزیرات ہند کی دفعہ 153 بی (امن وامان خراب کرنے والے بیان دینا) اور 505 (2) (نفرت پھیلانے کے مقصدسے ایسے جھوٹے اور خطرناک بیان دینا) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ شرجیل امام فی الحال دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ ان پر ملک سے غداری کے علاوہ دہلی فسادات میں سازش کرنے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ تشدد معاملے میں الزام لگایا گیا ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: