உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستان کی شکست کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کو ملی ضمانت

    ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستان کی شکست کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کو ملی ضمانت

    ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستان کی شکست کا جشن منانے والے کشمیری طلبا کو ملی ضمانت

    الہ آباد ہائی کورٹ نے تینوں کشمیری طلبا کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ٹی-20 عالمی کپ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد جشن منانے کے الزام میں آگرہ میں تین کشمیری طلبا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تینوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ہندوستان کی شکست کے بعد پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کی تھی۔ اب الہ آباد ہائی کورٹ نے تینوں طلبا کو ضمانت دے دی ہے۔

    • Share this:
      الہ آباد: ٹی-20 عالمی کپ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد جشن منانے کے الزام میں آگرہ میں تین کشمیری طلبا کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تینوں پر الزام تھا کہ انہوں نے ہندوستان کی شکست کے بعد پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کی تھی۔ اب الہ آباد ہائی کورٹ نے تینوں طلبا کو ضمانت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ پولیس نے تینوں کو 27 اکتوبر 2021 کو گرفتار کیا تھا۔ تینوں طلبا آگرہ کالج کے ہیں اور ان کی پہچان ارشد یوسف، شوکت احمد غنی اور عنایت الطاف کے طور پر ہوئی ہے۔

      الزام ہے کہ 24 اکتوبر 2021 کو ہندوستان کی شکست کے بعد تینوں نے جم کر جشن منایا تھا اور اس دوران پاکستان کی حمایت میں کھلے عام نعرے بازی کی تھی۔ جس کے بعد طلبا پر معاملہ درج کیا گیا تھا اور انہیں آگرہ سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      آرمی چیف قمر باجوا سے میٹنگ کے بعد عمران خان کا ملک کے نام خطاب منسوخ، کابینہ کی بلائی میٹنگ

      سنگین دفعات میں معاملہ درج

      معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بھی سخت کارروائی کی تھی۔ ملزم تینوں طالب علم پر پولیس نے ملک سے غداری اور سائبر دہشت گردی کی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین دن کے اندر ملزمین کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

      کیا تھا پورا معاملہ

      الزام ہے کہ اکتوبر 2021 میں آگرہ واقع آر بی ایس کالج کے بچپوری کیمپس میں ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستان کو پاکستان سے ملی شکست کے بعد تین کشمیری طلبا نے جشن منایا تھا۔ اس دوران پاکستان کی حمایت اور ملک مخالف نعرے بازی کی گئی تھی۔ اس کے بعد تینوں کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کے بعد تینوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ معاملے کے سامنے آنے کے بعد تینوں طلبا کی جم کر مخالفت ہوئی تھی۔ پولیس نے اس کے بعد تینوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ معاملے کو گرم ہوتا ہوا دیکھ کر پولیس نے اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے معاملہ درج کرنے کے ساتھ ہی تینوں وک آگرہ سے ہی گرفتار بھی کرلیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: