ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

فجرکی اذان کولیکروائس چانسلر کےاعتراض پرعلماء کرام نےجتائی ناراضگی،پوچھاکیرتن اورآرتی پرکیوں نہیں ہے اعتراض

Allahabad University VC on Azan Row: مولانا سیف عباس نے کہا کہ اذان دو۔ تین منٹ میں یا زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں ہوتی ہے۔ اگر وی سی کو صبح کی آرتی اور کیرتن کے بارے بھی شکایت ہوتی تو اس معاملہ کو سمجھا جاسکتاتھا

  • Share this:
فجرکی اذان کولیکروائس چانسلر کےاعتراض پرعلماء کرام نےجتائی ناراضگی،پوچھاکیرتن اورآرتی پرکیوں نہیں ہے اعتراض
نماز فجر کی اذان کو لیکر الہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو نے نیند میں خلل پڑنے کی بات کہی ہے

لکھنؤ۔ الہ آباد یونیورسٹی ( Allahabad University) کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو (VC Sangeeta Srivastava) کی جانب سے اذان کو لیکر ضلعی مجسٹریٹ سے کی گئی شکایت پر ردعمل کا ایک سلسلہ شروع ہوگیاہے۔ شیعہ مذہبی استاد مولانا سیف عباس نے وائس چانسلر کی طرف سے کی گئی شکایت پر کہا کہ صبح کا کیرتن بھی غلط ہونا چاہیے۔ انہوں نے وائس چانسلر سے اپنی شکایت واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔مولانا سیف عباس نے بتایا کہ اذان میں دو سے تین منٹ لگتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ ہوسکتے ہیں۔ اگر وائس چانسلر نے صبح کی آرتی اور کیرتن کے بارے میں بھی شکایت کی ہوتی ، تو یہ مسئلہ کو سمجھا جاسکتاہے لیکن صرف اذان کے بارے میں شکایت نامہ دینا مناسب نہیں ہے۔ وہ بھی ایک یونیورسٹی میں ایک اعلی ٰعہد ہ پر فائز رہے کر شکایت کرنا غلط ہے۔ میری گذارش ہے کہ وہ اپنی شکایت واپس لیں۔


وی سی پروفیسر ڈاکٹر سنگیتا سریواستو
وی سی پروفیسر ڈاکٹر سنگیتا سریواستو


سنی اسکالر مولانا سفیان نظامی نے کہا کہ مساجد میں اذان ہوتی اور مندروں میں آرتی ہوتی ہے۔ شہر میں ایک بہت بڑا کمبھ میلا بھی ہوتاہے۔ جہاں سے وائس چانسلر کا تعلق ۔ پورے مہینے میں لاؤڈ اسپیکر کی آوازیں سنائی دیتی ہے۔ سڑکیں بھی بند ہوتی ہےلیکن کسی مسلمان نے کبھی بھی کسی کو بھی کوئی خط نہیں لکھا ہے۔ مولانا سفیان نظامی کا کہنا ہے کہ کنور یاترا نکالی جاتی ہے۔ ہولی آتی تو سڑکیں بند ہوجاتی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کا بھی استعمال ہوتاہےلیکن کسی بھی مسلمان نے اب تک کوئی اعتراض یا شکایت درج نہیں کروائی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔


دراصل ،نماز فجر کی اذان کو لیکر الہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو نے نیند میں خلل پڑنے کی بات کہی ہے۔اس سلسلہ میں3 مارچ کو وائس چانسلر نے کارروائی کے لئے پریاگ راج کے ڈی ایم کو ایک خط لکھا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سنگیتا شریواستو نے خط میں کہا ہے کہ صبح ساڑھے 5 بجے ، انکے مکان کے قریب میں واقع مسجد میں لاؤڈ اسپیکر سے گونجنے والی اذان کی آواز سے انکی نیند میں خلل پڑرہاہے اور تمام تر کوششوں کے بعد بھی انہیں دوبارہ وہ نیند نہیں آتی ہے۔ اس کی وجہ سے ، انہیں دن بھر سر درد ہوتا ہے اور کام کاج بھی متاثر ہوتا ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 17, 2021 02:52 PM IST