ہجومی تشدد کے خلاف احتجاج : میرٹھ کے بعد الہ آباد میں بھی مسلم نوجوانوں کی گرفتاری

احتجاجی جلوس میں شامل ہونے والے جن نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ان کی عمر اٹھارہ برس سے کم بتائی جا رہی۔ نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف مقامی مسلمانوں میں غم غصہ بڑھتا جا رہا ہے

Jul 09, 2019 12:36 PM IST | Updated on: Jul 09, 2019 12:37 PM IST
ہجومی تشدد کے خلاف احتجاج : میرٹھ کے بعد الہ آباد میں بھی مسلم نوجوانوں کی گرفتاری

الہ آباد میں ہجومی تشدد کے خلاف احتجاجی جلوس میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی گرفتاری کا معاملہ اب اور بھی سنگین ہوتا جارہا ہے ۔احتجاجی جلوس میں شامل ہونے والے جن نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ان کی عمر اٹھارہ برس سے کم بتائی جا رہی۔ نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف مقامی مسلمانوں میں غم غصہ بڑھتا جا رہا ہے ۔پولیس کی زیادتیوں کے خلاف مقامی لوگوں نے سڑکوں پر احتجاج کرنا شروع کردیاہے

میرٹھ کے بعد اب الہ آباد میں بھی ہجومی تشدد کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی گرفتاری شروع ہوچکی ہے۔ گذشتہ 26جون کوالہ آباد میں ہجومی تشدد کے خلاف مسلمانوں نے زبر دست احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔اس طرح کےاحتجاجی مظاہرےالہ آباد کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں بھی کئے گئے تھے۔لیکن پھولپور میں نکالے جانے والے احتجاجی جلوس کے خلاف پولیس نے سخت کار روائی کی ہے ۔جلوس میں شامل کئی نوجوانوں کو پولیس نے ان کے گھروں سے اٹھا لیا ہے۔پولیس اٹھائے گئے نوجوانوں کے بارے میں کوئی جا نکاری نہیں دے رہی ہے۔ نیوز18اردو کے لئے الہ آباد سے مشتاق عامر کی رپورٹ

Loading...

مجلس اتحاد المسلین نوجوانوں کی گرفتار ی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے ۔مجلس اتحاد المسلمین کا کہنا ہے کہ یو پی میں جمہوری طریقے سے اٹھنے والے آوازوں کو دبانے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ اگر گرفتار نوجوانوں کو فوری طور پر رہا نہیں کیا گیا تو تنظیم سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرے گی۔مقامی مسلمانوں کی دلیل ہے کہ جمہوری طریقے سے احتجاج کرنا ان کا آئینی حق ہے ۔لوگوں کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت پولیس کے ذریعے جمہوری آواز دبانے کی کوشش کر ہی ہے ۔

Loading...