உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اعظم خان کو ملی ضمانت، لیکن اب بھی جیل میں ہی رہیں گے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر

    اعظم خان کو شترو جائیداد معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے۔

    اعظم خان کو شترو جائیداد معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے۔

    Azam Khan Bail: سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان کو شترو جائیداد پر قبضہ کرنے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت پر رہا کردیا ہے، لیکن فی الحال ایک نیا معاملہ درج ہوجانے کے سبب انہیں جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔

    • Share this:
      پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے سابق کابینی وزیر محمد اعظم خان کو شترو جائیداد پر قبضہ کرنے کے معاملے میں عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ایک لاکھ روپئے کے مچلکے اور دو دو ضمانت داروں پر ضمانت منظور کرلی ہے۔ عدالت نے اعظم خان سے شترو جائیداد کو پیرا ملٹری فورس کو سونپنے کا حکم دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اعظم خان کو 88 مجرمانہ معاملوں میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے ایک درجن معاملے میں ضمانت منسوخ کرنے کی عرضی داخل کی ہے، جو ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔

      ضمانت پر رہا ہوں، اس سے پہلے اعظم خان کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مانا جا رہا تھا کہ اگر اس معاملے میں ضمانت منظور ہوئی تو وہ جیل سے باہر نکل آئیں گے، لیکن اب نیا کیس درج ہونے سے آخری معاملے میں اب ضمانت ملنے کے باوجود رہائی نہیں ہوسکے گی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      سری لنکا تشدد: فسادیوں سے گھرے مہندا راج پکشے نے فیملی کے ساتھ لی نیوی بیس میں پناہ

      کیا تھا پورا معاملہ

      معاملے کے مطابق، اعظم خان پر عظیم نگر تھانے میں شترو جائیداد پر ناجائز قبضہ کرکے باونڈری وال سے گھیر لینے کا الزام ہے، جسے مولانا جوہر علی ٹرسٹ رامپور کے ذریعہ قائم یونیورسٹی میں شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ پولیس نے چارج شیٹ داخل کی ہے اور عدالت نے نوٹس بھی لے لیا ہے۔ معاملے کی 4 دسمبر 2021 کو ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تھی۔

      عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ 29 اپریل کو ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ میں داخل جوابی حلف نامہ داخل کرکے کچھ اور نئے ثبوت پیش کئے۔ اس کے بعد سماعت پانچ مئی کو ہوئی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے ضمانت پر فیصلہ سنانے میں تاخیر کو لے کر تلخ تبصرہ کیا ہے، جس پر منگل کو فیصلہ سنایا گیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: