حیدرآباد دکن سے علامہ اقبال کااہم تعلق: شاعر مشرق اپنے کلام کے ذریعہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ

حیدرآباد دکن کا دورہ کیا تھا۔بعد ازاں انہوں نے اس عظیم شہر کا دومرتبہ اور بھی دورہ کیا تھا اور تلنگانہ اسمبلی کی موجودہ عمارت جسے اُس زمانے میں ٹاون ہال کہا جاتا تھا میں انہوں نے ”اسلام میں مذہبی خیالات کی تعمیر نو“کے موضوع پر توسیعی لکچرس دیئے تھے

Jul 15, 2019 08:18 AM IST | Updated on: Jul 15, 2019 08:18 AM IST
حیدرآباد دکن سے علامہ اقبال کااہم تعلق: شاعر مشرق اپنے کلام کے ذریعہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ

علامتی تصویر۔(سوشل میڈیا)۔

حیدرآباد دکن کا شاعری سے کافی مضبوط رشتہ ہے۔ شہر کے بانی محمد قلی قطب شاہ خود ایک صاحب دیوان شاعر تھے۔یہاں کے عوام میں شاعری کا ذوق دیکھنے لائق ہے تاہم کئی لوگ یہ نہیں جانتے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کا بھی حیدرآباد سے اہم تعلق رہا ہے۔اردو کے اس عظیم شاعر نے 1910میں حیدرآباد دکن کا دورہ کیا تھا۔بعد ازاں انہوں نے اس عظیم شہر کا دومرتبہ اور بھی دورہ کیا تھا اور تلنگانہ اسمبلی کی موجودہ عمارت جسے اُس زمانے میں ٹاون ہال کہا جاتا تھا میں انہوں نے ”اسلام میں مذہبی خیالات کی تعمیر نو“کے موضوع پر توسیعی لکچرس دیئے تھے۔اپنی ایک دوست عطیہ بیگم کو لکھے گئے خط میں اردو کے اس عظیم شاعر نے کہا ”حیدرآبادکا میرا دورہ با معنی رہا جس کے بارے میں ہماری ملاقات کے موقع پر میں آپ کو بتاوں گا“اپنے دورہ کے دوران علامہ اقبال اس وقت کی حیدرآباد دکن ریاست کے مدار المہام (وزیراعظم)مہاراجہ کشن پرشاد کے مہمان تھے۔

علامہ اقبال نے پانچ دن اس شہر میں قیام کیا اور قطب شاہی فرمانرواوں کی آخری آرامگاہیں گنبدان قطب شاہی کا نہ صرف مشاہدہ کیا بلکہ بدر کامل کے موقع پر ایک نظم ”گورستان شاہی“بھی ضبط تحریر کی۔یہ مقابر ان کے لئے کافی متاثر کن تھے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ نظم تحریر کی تھی۔116اشعار والی اس نظم میں انسان کی بے بسی، لاچاری،ناگزیر موت، بادشاہت کے عروج و زوال کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔اقبال کے لئے حیدرآباد ایک اہم مقام رکھتا تھا اور ان کے دل اس کے لئے خصوصی اہم جگہ ہے۔حیدرآباد کے انگریزی  اخبار تلنگانہ ٹوڈے اخبار میں شائع جے ایس افتخار کی رپورٹ کے مطابق 7جنوری 1938کو پہلی مرتبہ حیدرآباد میں یوم اقبال منایا گیا۔ان کے نام پر بزم اقبال تنظیم کا بھی قیام عمل میں لایا گیا۔حیدرآباد کو پہلی مرتبہ اقبال کی ابتدائی نظمو ں کے مجموعہ کی اشاعت کا بھی اعزاز حاصل ہے۔2010میں اقبال اکیڈیمی کی جانب سے یوم اقبال بھی منایا گیا تاکہ اس عظیم شاعر کے دورہ حیدرآباد کو یاد کیاجاسکے۔سرکردہ اسکالرس نے اقبال کے کلام اور انسانیت کے لئے ان کے پیام پر روشنی ڈالی۔

Loading...

سید خلیل اللہ حسینی سرکردہ ماہر تعلیم جو اقبال سے کافی متاثر تھے، نے ان کے فلسفہ اور خیالات ونظریات کو حیدرآباد میں زندہ رکھنے میں کلیدی رول ادا کیا۔حسینی نے بزم احباب کا قیام عمل میں لایا جہاں اقبال کی شاعری پڑھی جاتی اور اس پر غور وفکر کیاجاتا۔بعد ازاں 1954میں اس تنظیم کو مجلس تعمیر ملت کا نام دے دیا گیا۔1959میں انہوں نے اقبال اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا تاکہ ان کی شاعری پر تحقیق کی جاسکے۔آج یہ اکیڈیمی اس عظیم شاعر کی شاعری کے تجزیہ کا سرکردہ مرکز ہے۔کئی اعزازی ڈگریوں کے حامل علامہ اقبال کو 1938میں حیدرآباد کی عظیم یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ نے بھی ڈی لیٹ کی ڈگری عطا کی تھی۔مہاراجہ کشن پرشاد کے نام اقبال کی جانب سے اپنے ہاتھ سے لکھی گئی نظم ادارہ ادبیات اردو حیدرآباد میں آج بھی محفوظ ہے۔اس ادارہ کا قیام سید محی الدین قادری زور نے اردو کی ترقی اور ترویج کے لئے عمل میں لایاتھا۔

علامتی تصویر۔(سوشل میڈیا)۔ علامتی تصویر۔(سوشل میڈیا)۔

اس ادارہ میں دیگر سرکردہ شعرا جیسے داغ دہلوی، جگر مراد آبادی کے بھی خطوط ہیں۔اقبال کے انتقال کی اطلاع پر حیدرآباد سوگ میں ڈوب گیا تھا۔حیدرآباد کئی شعرا کا مسکن رہا ہے جن میں داغ دہلوی بھی شامل ہیں جنہوں نے ابتدا میں کلام اقبال کی اصلاح کی تھی۔اقبال کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی وہ ہنوز حیدرآباد کے لوگوں کے دلوں میں اپنے کلام کے ذریعہ زندہ ہیں۔آج بھی لوگ اقبال کی مشہور نظم ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا“پڑھ کر اس عظیم شاعر کو بھرپور خراج پیش کرتے ہیں۔کلام اقبال،فکر اقبال،فلسفہ اقبال اور اقبال کی شاعری کے مختلف پہلووں کو سمجھنے کے لئے 8اکتوبر 1997سے باضابطہ لکچرس کا اہتمام بھی کیاجارہا ہے اور تاحال ایسے 987لکچرس منعقد کئے جاچکے ہیں۔اس طرح کے لکچرس کے لئے محفل اقبال شناسی کا اہتمام کیاجاتا ہے۔یہ محافل شہر حیدرآباد کی مشہور مسجد عالیہ کے کانفرنس ہال میں ہر بدھ کی شام منعقد کی جاتی ہے جس میں مشہور شخصیات لکچرس دیتی ہیں۔دو دہائی کے دوران ان کی شاعری کے مختلف پہلووں پر نظر ڈالی گئی اور اس کو اجاگر بھی کیاگیا۔اہم پروفیسرس، نقاد اور شعرا اس عظیم شاعر پر لکچرس دیتے ہیں۔اس طرح کے لکچرس کے اہتمام کا سہرا جناب غلام یزدانی کے سر جاتا ہے جو ایک سینئر ایڈوکیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اقبال کے بڑے مداح بھی ہیں۔

حیدرآباد دکن: شاعر مشرق علامہ اقبال کے  دورے کے موقع پرطلبا تنظیموں کے نمائندوں کے  ساتھ لی گئی تاریخی تصویر۔(سوشل میڈیا)۔ حیدرآباد دکن: شاعر مشرق علامہ اقبال کے دورے کے موقع پرطلبا تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ لی گئی تاریخی تصویر۔(سوشل میڈیا)۔

Loading...