ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک اسمبلی میں مبینہ وقف اسکیم رپورٹ پیش، کانگریس کے کئی بڑے نام رپورٹ میں موجود

کرناٹک میں ایک بار پھر مبینہ وقف گھوٹالہ پر بحث شروع ہوئی ہے۔ 8 سال کے طویل انتظار کے بعد کرناٹک کی اسمبلی میں انور مانپاڈی کی رپورٹ پیش ہوئی ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلی لکشمن سودھی نے 23 ستمبر 2020 کو اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیا ہے۔

  • Share this:
کرناٹک اسمبلی میں مبینہ وقف اسکیم رپورٹ پیش، کانگریس کے کئی بڑے نام رپورٹ میں موجود
کرناٹک اسمبلی میں مبینہ وقف اسکیم رپورٹ پیش، کانگریس کے کئی بڑے نام رپورٹ میں موجود

بنگلورو: کرناٹک میں ایک بار پھر مبینہ وقف گھوٹالہ پر بحث شروع ہوئی ہے۔ 8 سال کے طویل انتظار کے بعد کرناٹک کی اسمبلی میں انور مانپاڈی کی رپورٹ پیش ہوئی ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلی لکشمن سودھی نے 23 ستمبر 2020 کو اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ مارچ 2012 میں کرناٹک اقلیتی کمیشن کے چیئرمین انور مانپاڈی نے ریاست کے مختلف اضلاع میں ہوئے وقف اراضی پر ناجائز قبضوں، وقف املاک میں خرد برد، وقف امور میں بدعنوانیوں کے الزامات پر ایک ضخیم رپورٹ اس وقت کی بی جے پی حکومت کے وزیر اعلی ڈی وی سدانند گوڈا کو پیش کی تھی۔ تب سے لے کر آج تک یہ رپورٹ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔


کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین، بی جے پی کے سینئر لیڈر انور مانپاڈی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ کرناٹک میں وقف املاک کا گھوٹالہ 2 جی Spectrum اسکیم سے بھی بڑا ہے، یعنی یہ وقف گھوٹالہ 2 لاکھ کروڑ سے زائد کا ہے۔ انور مانپاڈی رپورٹ کے مطابق اس اسکیم میں ملوث افراد نے وقف کی 2700 ایکڑ اراضی پر یا تو ناجائز قبضہ جمایا ہے یا وقف اراضی کو ہڑپ لیا ہے یا پھر وقف اراضی کو فروخت کیا ہے۔


 کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین، بی جے پی کے سینئر لیڈر انور مانپاڈی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ کرناٹک میں وقف املاک کا گھوٹالہ 2 جی Spectrum اسکیم سے بھی بڑا ہے۔

کرناٹک ریاستی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین، بی جے پی کے سینئر لیڈر انور مانپاڈی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہےکہ کرناٹک میں وقف املاک کا گھوٹالہ 2 جی Spectrum اسکیم سے بھی بڑا ہے۔


اس مبینہ وقف اسکیم کی رپورٹ میں کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں کے نام موجود ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ملیکارجن کھرگے، سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان، سابق مرکزی وزیر اور موجودہ MLC سی ایم ابراہیم، سابق مرکزی وزیر مرحوم سی کے جعفرشریف، سابق ریاستی وزراء آر روشن بیگ، تنویر سیٹھ، مرحوم قمرالاسلام، بنگلورو کے شانتی نگر اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے این اے حارث، سابق وزیر اعلی آنجہانی دھرم سنگھ اس طرح کئی بڑے نام اس مبینہ وقف گھوٹالہ رپورٹ میں موجود ہیں۔

سیاستدانوں کے علاوہ اقلیتی طبقے کے چند آئی اے ایس اور کے اے ایس افسروں پر بھی وقف اراضی گھوٹالے میں مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بنگلورو شہری، بنگلورو دیہی، رام نگرم، بیدر، کلبرگی(گلبرگہ) اور کپل اضلاع میں وقف جائیدادوں پر ہوئے قبضہ جات، بدعنوانیوں اور خرد برد کا تذکرہ اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ دستاویزات سمیت کل 7 ہزار صفحات پر یہ رپورٹ مشتمل ہے۔ ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیرمین کے طور پر انور مانپاڈی کی اس رپورٹ میں کئی سفارشیں کی گئی ہیں۔ ایک سال تک کیلئے کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے پورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں رپورٹ کے پیش ہونے کے بعد جانچ ہونی چاہئے۔
سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے پورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں رپورٹ کے پیش ہونے کے بعد جانچ ہونی چاہئے۔


اس پورے گھوٹالہ کی لوک آیکت کے ذریعہ جانچ کروانے کی ریاستی حکومت کو سفارش کی گئی ہے۔ اب اس رپورٹ کے اسمبلی میں پیش کئے جانے کے بعد ایک بار پھر کرناٹک میں وقف جائدادوں کے معاملہ میں بحث شروع ہوئی ہے۔ کانگریس کے لیڈروں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ رپورٹ ایک طرفہ ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کو نشانہ بنانے کیلئے اس وقت کی بی جے پی حکومت نے رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ کے پیش ہونے سے قبل یہ سوالات کئی بار اٹھ چکے ہیں کہ انور مانپاڈی کی رپورٹ وقف جائدادوں پر ہوئے سرکاری قبضوں پر کیوں خاموش ہے؟ رپورٹ میں صرف کانگریس کے لیڈروں کا ہی نام کیوں ہے؟۔ کیا بی جے پی اور دیگر پارٹیوں کے لیڈروں نے وقف جائیدادوں پر قبضے نہیں جمائے ہیں؟ اس طرح کے کئی سوالات اٹھ چکے ہیں۔ان سوالات کی وجہ سے بی جے پی حکومت اور اس کے بعد قائم ہوئی کانگریس اور جے ڈی ایس کی حکومتوں نے  رپورٹ کو پیش کرنے میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی، لیکن بی جے پی کے سینئر لیڈر انور مانپاڈی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہائی کورٹ اور یہاں تک کہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ سپریم کورٹ نے اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کی ریاستی حکومت کو ہدایت دی اور آخر کار 23 ستمبر 2020 کو یہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کی گئی۔

نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے انور مانپاڈی نے کہا اسمبلی کے اس اجلاس میں اگر رپورٹ پیش نہ کی جاتی تو عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جس کسی نے بھی وقف زمین پر قبضہ جمایا ہے یا غیر قانونی طور پر فروخت کیا ہے ان تمام کے نام رپورٹ میں شامل ہیں، اس میں بی جے پی اور کانگریس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے رپورٹ کے اسمبلی میں پیش کئے جانے کا خیر مقدم کیا ہے۔ کے رحمن خان نے کہا کہ یہ ایک اقلیتی کمیشن کی رپورٹ ہے۔ اس پر خوب بحث ہوئی ہے، رپورٹ کی پیشی میں کیوں تاخیر ہوئی یہ بات سمجھ کے باہر ہے۔انور مانپاڈی رپورٹ میں آپ کا بھی نام ہے؟



اس سوال پر کے رحمن خان نے کہا کہ اب تک انہوں نے یہ رپورٹ نہیں دیکھی ہے، کس معاملے میں انکا نام لیا گیا ہے اس کی کوئی جانکاری انہیں نہیں ہے۔ کے رحمن خان نے واضح کیا کہ انہوں نے وقف کی ایک انچ زمین کو دھکا نہیں لگایا ہے اور نہ ہی وقف املاک سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان نے پورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں رپورٹ کے پیش ہونے کے بعد جانچ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ہر قسم کی جانچ کیلئے تیار ہیں۔ 2012 میں جب وقف گھوٹالہ کی یہ رپورٹ تیار کی گئی تھی اس وقت کے رحمن خان کرناٹک ریاستی وقف بورڈ کے رکن تھے۔ رحمن خان نے کہا کہ وقف بورڈ کے علم میں لائے بغیر یا وقف بورڈ سے جانکاری حاصل کئے بغیر کیسے کوئی وقف گھوٹالہ کی رپورٹ تیار کرسکتا ہے؟، یہ ایک اہم سوال ہے۔ رحمن خان نے کہا کہ بہرحال طویل انتظار کے بعد مبینہ وقف اسکیام کی رپورٹ اسمبلی میں پیش ہوچکی ہے، اس رپورٹ پر بحث ہونی چاہئے اور اسکی جانچ کا  کروانا حکومت کا اختیار ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 24, 2020 11:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading