உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محمد زبیرکو’سپریم‘ راحت، عدالت نے کہا- UP کے سبھی معاملوں میں فوراً دی جائے ضمانت

    سپریم کورٹ نے یوپی میں درج سبھی معاملوں میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ جب دہلی پولیس نے پوچھ گچھ اور جانچ کرلی ہے تو مسلسل حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ نے یوپی میں درج سبھی معاملوں میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ جب دہلی پولیس نے پوچھ گچھ اور جانچ کرلی ہے تو مسلسل حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ نے یوپی میں درج سبھی معاملوں میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ جب دہلی پولیس نے پوچھ گچھ اور جانچ کرلی ہے تو مسلسل حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آلٹ نیوز کے کو فاونڈر اور فیکٹ چیکر محمد زبیر کی عرضی پر بدھ کو سماعت کی۔ اس دوران جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی بینچ نے صحافی محمد زبیر کو بڑی راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے یوپی میں درج سبھی معاملوں میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ جب دہلی پولیس نے پوچھ گچھ اور جانچ کرلی ہے تو مسلسل حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہے۔

      فیصلہ سناتے وقت سپریم کورٹ نے کہا کہ گرفتاری کی طاقت کا استعمال احتیاط سے کیا جانا چاہئے۔ اب محمد زبیر کو حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے فی الحال مقدمہ منسوخ کرنے سے انکار کیا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

       نوپور شرما کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، گرفتاری پر لگی روک، 10 اگست کو ہوگی اگلی سماعت 

      اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ سبھی معاملوں کو ایک جگہ جمع کرکے کوئی ایک ایجنسی جانچ کرے۔ اس لئے سبھی مقدموں کی جانچ دہلی پولیس کو دی جاتی ہے۔ وہیں سپریم کورٹ نے یوپی ایس آئی ٹی (SIT) کو تحلیل کیا ہے۔ محمد زبیر اگر چاہے تو دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے ایف آئی آر (FIR) منسوخ کرنے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

      سپریم کورٹ نے کہا کہ جب محمد زبیر سے دہلی پولیس نے پوچھ گچھ اور جانچ کرلی ہے تو مسلسل حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)
      سپریم کورٹ نے کہا کہ جب محمد زبیر سے دہلی پولیس نے پوچھ گچھ اور جانچ کرلی ہے تو مسلسل حراست میں رکھنے کا جواز نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)


      سپریم کورٹ نے محمد زبیر کے خلاف یوپی میں درج سبھی معاملوں کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے حوالے کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی اور مقدمہ درج ہوتا ہے تو اس پر بھی یہی حکم نافذ ہوگا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے صحافی محمد زبیر کو 20 ہزار روپئے کا پرسنل بانڈ بھرنے کو کہا ہے۔ واضح رہے کہ صحافی محمد زبیر پر کل 8 ایف آئی درج ہیں، جن میں سے 7 یوپی میں اور ایک دہلی میں درج ہے۔

      واضح رہے کہ دوپہر دو بجے سے پہلے تینوں فریق کے وکیلوں نے اپنی اپنی رائے رکھی تھی، جس کے بعد عدالت نے دو بجے کے بعد معاملے میں فیصلہ سنانے کو کہا تھا۔ آج ہوئی سماعت کے دوران جانچ ایجنسی کی طرف سے ASG ایس وی راجو پیش ہوئے۔

      وہیں صحافی محمد زبیر کی طرف سے وکیل ورندا گروور نے موقف رکھا۔ جبکہ اترپردیش حکومت کی طرف سے وکیل گریما پرساد موجود تھیں۔ ورندا گروور نے عدالت کو مطلع کیا کہ صحافی محمد زبیر کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ایک ہاتھرس معاملے کو چھوڑ کر سبھی معاملوں میں ٹوئٹ ہی واحد موضوع ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: