உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آلٹ نیوز صحافی محمد زبیر کے اکاونٹ میں کہاں سے آئے پیسے؟ دہلی پولیس نے کہا- ذرائع کی جانچ کریں گے

    دہلی پولیس نے بتایا کہ ان کے اس بات کے ثبوت ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں آلٹ نیوز کے شریک بانی جرنلسٹ محمد زبیر کے بینک اکاونٹ میں  50 لاکھ روپئے آئے تھے۔ پولیس موصولہ رقم کے ذرائع کی جانچ کر رہی ہے۔ وہیں دوسری جانب آلٹ نیوز نے اس الزام کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔

    دہلی پولیس نے بتایا کہ ان کے اس بات کے ثبوت ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں آلٹ نیوز کے شریک بانی جرنلسٹ محمد زبیر کے بینک اکاونٹ میں  50 لاکھ روپئے آئے تھے۔ پولیس موصولہ رقم کے ذرائع کی جانچ کر رہی ہے۔ وہیں دوسری جانب آلٹ نیوز نے اس الزام کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔

    دہلی پولیس نے بتایا کہ ان کے اس بات کے ثبوت ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں آلٹ نیوز کے شریک بانی جرنلسٹ محمد زبیر کے بینک اکاونٹ میں  50 لاکھ روپئے آئے تھے۔ پولیس موصولہ رقم کے ذرائع کی جانچ کر رہی ہے۔ وہیں دوسری جانب آلٹ نیوز نے اس الزام کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ چلانے والے آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دہلی پولیس کو محمد زبیر کے بینک اکاونٹ میں گزشتہ کچھ ماہ میں 50 لاکھ روپئے آنے کی بات سامنے آئی ہے۔ حالانکہ یہ رقم کہاں سے آئی اور کس نے بھیجی، اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ نے منگل کے روز آلٹ نیوز کے صحافی محمد زبیر کو چار دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔

      دہلی پولیس نے منگل کو بتایا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ گزشتہ تین ماہ میں آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے بینک اکاونٹ میں 50 لاکھ روپئے آئے تھے۔ پولیس موصول رقم کے ذرائع کی جانچ کر رہی ہے اور بدھ کو انہیں بنگلورو لے جایا جاسکتا ہے۔



      حالانکہ آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے منگل کو ان میڈیا رپورٹوں کو خارج کردیا، جن میں کہا گیا تھا کہ محمد زبیر کے کھاتے میں گزشتہ تین ماہ میں 50 لاکھ روپئے آئے تھے۔ پرتیک سنہا نے ٹوئٹر پر خبر کو شیئر کرتے ہوئے کہا، ’فیکٹ چیکنگ: بالکل جھوٹ! پولیس آلٹ نیوز کے ذریعہ حاصل ڈونیشن کو محمد زبیر سے جوڑ رہی ہے۔ آلٹ نیوز کو حاصل ہونے والا سارا پیسہ تنظیم کے بینک اکاونٹ میں جاتا ہے، کسی شخص کو نہیں۔ محمد زبیر کے پرسنل اکاونٹ کا بینک اسٹیٹمنٹ جس کی ایک کاپی میرے پاس ہے، اس جھوٹ کو خارج کرتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پٹیالہ ہاوس کورٹ نے صحافی محمد زبیر کو 4 دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیجا

      دہلی پولیس نے محمد زبیر کو دشمنی کو بڑھاوا دینے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں پیر کی شام کو گرفتار کیا تھا۔ محمد زبیر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153/295اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ محمد زبیر کو سال 2018 کے مبینہ طورپر ایک قابل اعتراض ٹوئٹ کے سبب گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد زبیر پر نفرت پھیلانے کے ارادے سے جذباتی بیان دینے اور مذہبی جذبات کی توہین کرنے یا کرنے کی کوشش کرنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 295اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

      محمد زبیر کی وکیل ورندا گروور نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو سال 2018 میں پوسٹ کی گئی جس تصویر کے لئے گرفتار کیا گیا ہے، وہ 1983 کی فلم ‘کسی سے نہ کہنا‘ سے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام کے برعکس محمد زبیر نے تصویر سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: