ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

کسان سبھا میں جا رہے راکیش ٹکیٹ کے قافلے پر حملہ، کار کے شیشے توڑے، سیاہی پھینکی

Kisan Neta Rakesh Tikait: کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ کے قافلے پر جمعہ کو راجستھان کے الور میں بھیڑ نے پتھراو کیا ہے۔ اس حملے میں راکیش ٹکیٹ کی کار کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ حملہ تتار پور میں اس وقت ہوا، جب راکیش ٹکیٹ بانسور میں کسان سبھا کو خطاب کرنے جا رہے تھے۔

  • Share this:
کسان سبھا میں جا رہے راکیش ٹکیٹ کے قافلے پر حملہ، کار کے شیشے توڑے، سیاہی پھینکی
کسان سبھا میں جا رہے راکیش ٹکیٹ کے قافلے پر حملہ

الور: کسان آندولن کے قائد راکیش ٹکیٹ کے قافلے پر جمعہ کو راجستھان میں بھیڑ نے حملہ کردیا۔ یہ حملہ تب ہوا، جب راکیش ٹکیٹ الور کے ہرسورا میں تقریب کو خطاب کرکے بانسور جا رہے تھے۔ اسی درمیان تتار پور میں بھیڑ نے راکیش ٹکیٹ کے قافلے پر پتھراو شروع کردیا۔ پتھراو میں راکیش ٹکیٹ کی کار کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس دوران شرپسند عناصر نے راکیش ٹکیٹ پر سیاہی بھی پھینکی۔ وہیں اس معاملے میں الور کی متسے یونیورسٹی کے طلبہ یونین صدر کلدیپ یادو سمیت چار کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔


حالانکہ وقت رہتے ہی پولیس نے حالات پر قابو کرتے ہوئے سیکورٹی گھیرے میں راکیش ٹکیٹ کو وہاں سے نکال لیا۔ پولیس سیکورٹی کے درمیان ہی راکیش ٹکیٹ کو وہاں سے بانسور پہنچایا گیا ہے۔ راکیش ٹکیٹ نے خود سوشل میڈیا پر ان کی کار پر ہوئے حملے کے بارے میں لکھا ہے کہ ’راجستھان کے الور ضؒع کے تتار پور چوراہا، بانسور روڈ پر بی جے پی کے غنڈوں کے ذریعہ جان لیوا حملے کئے گئے، جموریت کے قتل کی تصویریں‘۔ ان کے اس پوسٹ پر مسلسل لوگ ںاراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی راجستھان میں اپوزیشن ٹیم بی جے پی پر الزام لگ رہے ہیں۔




راکیش ٹکیٹ پر ہوئے اس حملے کو لے کر کسان آندولن کے اسٹیج سے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ کسان لیڈروں نے اس حملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بانسور کی کسان سبھا کے منچ سے کہا کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ حملے کے بعد کسانوں نے روڈ پر جام لگا دیا اورکارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ کسان لیڈروں نے بی جے پی پر اس حملے کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ راجستھان میں بھی بی جے پی کی حالت ہریانہ اور پنجاب جیسی کی جائے گی۔ اس سے پہلے راکیش ٹکیٹ نے آج ہی الور میں ہی ہرسولی میں کسان سبھا کو خطاب کیا تھا۔ واضح رہے کہ کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ راجستھان میں کسان سبھائیں کر رہے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 02, 2021 08:02 PM IST