உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’امر جوان جیوتی‘ کو قومی جنگی یادگار پر جل رہی لَو میں کیا گیا ضم، اب یہاں یاد کیے جائیں گے بہادر جوان

     راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، بہت دکھ کی بات ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کے لئے جو امر جیوتی جلتی تھی، اسے آج ب جھا دیا جائے گا۔ کچھ لوگ ملک سے محبت اور قربانی کو نہیں سمجھ سکتے۔ کوئی بات نہیں۔۔۔، ہم اپنے فوجیوں کے لئے امر جوان جیوتی ایک بار پھر جلائیں گے۔‘

    راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، بہت دکھ کی بات ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کے لئے جو امر جیوتی جلتی تھی، اسے آج ب جھا دیا جائے گا۔ کچھ لوگ ملک سے محبت اور قربانی کو نہیں سمجھ سکتے۔ کوئی بات نہیں۔۔۔، ہم اپنے فوجیوں کے لئے امر جوان جیوتی ایک بار پھر جلائیں گے۔‘

    راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، بہت دکھ کی بات ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کے لئے جو امر جیوتی جلتی تھی، اسے آج ب جھا دیا جائے گا۔ کچھ لوگ ملک سے محبت اور قربانی کو نہیں سمجھ سکتے۔ کوئی بات نہیں۔۔۔، ہم اپنے فوجیوں کے لئے امر جوان جیوتی ایک بار پھر جلائیں گے۔‘

    • Share this:
      نئی دہلی: دلی میں انڈیا گیٹ (India Gate) پر پچھلے 50 سال سے جل رہی امر جوان جیوتی (Amar Jawan Jyoti) کو جمعہ کے دن قومی جنگی یادگار (National War Memorial) پر جل رہی لو میں ضم کردیا گیا۔ ایئر مارشل بال بھدر رادھا کرشن کی صدارت میں یہ تقریب منعقد ہوئی۔ امر جوان جیوتی کا قیام ان ہندوستانی فوجیوں کی یاد میں کیا گیا تھا جو 1971 کی ہند-پاک جنگ (India-Pakistan War) میں شہید ہوئے تھے۔ اس جنگ میں ہندوستان نے پاکستان کو دھول چٹائی تھی۔ اس کے بعد ہی بنگلہ دیش (Bangladesh) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ وہیں، اب لو کے ضم ہونے کے بعد یہاں پر ملک کے بہادروں کو یاد کیا جائے گا۔


      ہندوستان کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی (Indira Gandhi) نے 26جنوری 1972 کو امر جوان جیوتی کا افتتاح انجام دیا تھا۔ امر جوان جیوتی کو قومی جنگی یادگار پر جل رہی لو میں ضم کیا جانا تھا، جو اب پورا ہوگیا ہے۔ نیشنل وار میموریل اور انڈیا گیٹ کے درمیان صرف 400 میٹر کی ہی دوری ہے۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ نیشنل وار میموریل کا افتتاح وزیراعظم نریندر مودی (Narendra Modi) کی جانب سے 25 فروری 2019 کو کیا گیا تھا۔ اس جگہ پر 25,942 جوانوں کے نام سنہری الفاظ میں لکھے گئے ہیں۔ افتتاح کے بعد انڈیا گیٹ پر ہونے والے سبھی فوجی رسمی پروگراموں کو وہاں منتقل کردیا جائے گا۔


      آخر کیوں لیا گیا فیصلہ؟
      ذرائع نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ تب لیا گیا جب یہ پایا گیا کہ دونوں جگہ جلتی لو کے انتظامات مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ فوج کے ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ، یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ چونکہ ملک کے شہیدوں کے لئے قومی جنگی یادگار پہلے ہی بنایا جاچکا ہے، اس لئے انڈیا گیٹ پر ایک الگ جلتی لو کیوں جلائی جانی چاہیے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ قومی جنگی یادگار پر اُن شہیدوں کے نام بھی ہیں جو انڈیا گیٹ پر لکھے گئے ہیں۔ یادگار میں ان سبھی ہندوستانی سپاہیوں کے نام بھی ہیں، جنہوں نے مختلف مہمات میں اپنی جان گنوائی ہے۔ اس میں 1947-48 میں پاکستان کے ساتھ جنگ سے لے کر گلوان وادی میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے جوانوں کے نام بھی شامل ہیں۔

      کانگریس نے حکومت کے اس قدم پر اٹھائے سوال
      کانگریس نے امر جوان جیوتی کی جلتی لو کا قومی جنگی یادگار پر جل رہی لو میں انضمام کرنے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ملک کی سب سے پرانی پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ قدم فوجیوں کی قربانی کی تاریخ کو مٹانے کی طرح ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا، بہت دکھ کی بات ہے کہ ہمارے بہادر جوانوں کے لئے جو امر جیوتی جلتی تھی، اسے آج ب جھا دیا جائے گا۔ کچھ لوگ ملک سے محبت اور قربانی کو نہیں سمجھ سکتے۔ کوئی بات نہیں۔۔۔، ہم اپنے فوجیوں کے لئے امر جوان جیوتی ایک بار پھر جلائیں گے۔‘


      کانگریس لیڈر منیش تیواری نے الزام لگایا، ’امر جوان جیوتی کو بجھانا اس کی تاریخ کو مٹانے کی طرح ہے جو پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے اور ساوتھ ایشیا کے نقشے کو بدلنے والے 3,483 بہادر فوجیوں کی عظیم قربانی کی علامت ہے۔‘

      حکومت نے کیا کہا؟
      سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دیکھ کر عجیب لگتا ہے کہ امر جوان جیوتی کی جلتی لو 1971 اور دوسری جنگوں کے شہیدوں کو خراج دینے کے لئے، لیکن ان میں سے کسی کا نام وہاں موجود نہیں ہے۔ سرکاری ذرائع نے یہ بھی کہا کہ انڈیا گیٹ پر کچھ اُن شہیدوں کے نام درج ہیں جو پہلی جنگ عظیم اور اینگلو افغان جنگ میں برٹش دور کے لئے لڑے اور ایسے میں یہ ہمارے ہمارے نوآبادیاتی ماضی کی علامت ہے۔


      بی جے پی کے ترجمان سامبیت پاترا نے ٹوئٹ کیا، ’امر جوان جیوتی کے تعلق سے کئی طرح کی غلط اطلاعات گردش کی جارہی ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ امر جوان جیوتی کی لو کو بجھایا نہیں جارہا ہے۔ اسے قومی جنگی یادگار کی جلتی لو کے ساتھ ملایا جارہا ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: