ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امر سنگھ کا انتقال، وزیر اعظم مودی اور صدر جمہوریہ نے کیا رنج کا اظہار

سماجوادی پارٹی کے سابق سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امر سنگھ کا سنگا پور میں ہفتہ کے روز دوپہر کے وقت انتقال ہوگیا۔ وہ 6 ماہ سے بیمار چل رہے تھے اور سنگا پور میں اپنا علاج کرا رہے تھے۔

  • Share this:
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امر سنگھ کا انتقال، وزیر اعظم مودی اور صدر جمہوریہ نے کیا رنج کا اظہار
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امر سنگھ کا انتقال، 6 ماہ سے چل رہے تھے بیمار

نئی دہلی: راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ امر سنگھ کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ تقریباً 6 ماہ سے بیمار چل رہے تھے۔ سنگا پور میں علاج کے دوران امر سنگھ ہفتہ کے روز دوپہر کے وقت زندگی کی جنگ ہار گئے۔ امر سنگھ گزشتہ 7 ماہ سے سنگا پور کے ماونٹ الیزابیتھ اسپتال میں داخل تھے۔ آخری وقت میں ان کے ساتھ صرف ان کی اہلیہ ہی وہاں موجود تھیں۔ امر سنگھ کے سیاسی سفر میں بلندی پر پہنچنے اور نیچے گرنےکی کہانی دو دہائیوں کے دوران لکھی گئی۔ ایک دور میں وہ سماجوادی پارٹی کے سب سے اثر دار لیڈر تھے اور ان کا زبردست جلوہ تھا، لیکن حاشیے پر بھی ڈالے جاتے رہے۔ سماجوادی پارٹی کی کمان اکھلیش یادو کے ہاتھوں میں جانے کے بعد انہیں سماجوادی پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑی۔


وزیراعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا رکن امر سنگھ کے انتقال پر رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کےکنبے اور دوستوں کے تئیں دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ’امر سنگھ ایک متحرک اور توانا عوامی شخصیت تھے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں وہ کئی بڑی سیاسی تبدیلیوں کے گواہ رہے۔ وہ زندگی میں اپنی دوستی کے لئے مشہور تھے۔ ان کے انتقال سے صدمہ پہنچا ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں میں ان کے کنبے اور دوستوں کے تئیں دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔




صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے راجیہ سبھا رکن امر سنگھ کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ صدر نے ہفتہ کو ٹوئٹ کرکے کہا ’’راجیہ سبھا رکن امر سنگھ کے انتقال کے بارے میں سن کر کافی رنج ہوا‘‘۔ انہوں نے مزید لکھا ’’کثیر الجہتی شخصیت کے مالک مسٹر سنگھ ایک باصلاحیت رکن پارلیمنٹ تھے۔ انکے کنبے اور معاونین کے تئیں میری خراج عقیدت‘‘۔



امرسنگھ 64 برس کے تھے۔ ان کے اہل خانہ میں بیوی اور دو بیٹیاں ہیں۔ امرسنگھ گردے کے مرض میں مبتلا تھے اور 6 ماہ سے زیادہ وقت سے سنگا پور میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ رکن پارلیمنٹ کا دوسری دفعہ کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا تھا حالانکہ یہ کامیاب ہوا تھا۔ ان کی طبیعت بہتر ہو رہی تھی لیکن وائرس ہونے سے ان کی طبیعت زیادہ بگڑتی چلی گئی۔ ڈاکٹروں نے مسٹر سنگھ کو بچانے کی مکمل کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوئے۔ امر سنگھ نے موت سے قبل دو ٹوئٹ کئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں عوام کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد دی تھی۔ ایک دیگر ٹویٹ میں انہوں نے لوک مانیہ تلک بال گنگا دھر تلک کی برسی پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔

امرسنگھ گردے کے مرض میں مبتلا تھے اور 6 ماہ سے زیادہ وقت سے سنگا پور میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ رکن پارلیمنٹ کا دوسری دفعہ کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا تھا حالانکہ یہ کامیاب ہوا تھا۔
امرسنگھ گردے کے مرض میں مبتلا تھے اور 6 ماہ سے زیادہ وقت سے سنگا پور میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ رکن پارلیمنٹ کا دوسری دفعہ کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا تھا حالانکہ یہ کامیاب ہوا تھا۔


امر سنگھ 27 جنوری 1956 کو اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایس پی کے بانی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے بے حد قریبی تھے۔ وہ میگا اسٹار امیتابھ بچن کے بھی بے حد قریبی تھے لیکن بعد ازاں دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ امرسنگھ نے 2010 میں ایس پی کے جنرل سکریٹری کے عہدے اور راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بعد ازاں دو فروری 2010 کو ایس پی سپریمو ملائم سنگھ نے انھیں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ وہ 2011 میں کچھ وقت جیل میں بھی رہے۔ کچھ وقت تک سیاست سے دور رہنے کے بعد مسٹر سنگھ 2016 میں ایس پی کی حمایت سے پھر راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے، اسی سال اکتوبر میں انھیں دوبارہ ایس پی جنرل سکریٹری بنایا تھا۔

نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 01, 2020 05:10 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading