உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس سے ناراض کیپٹن امریندر سنگھ بنائیں گے نئی پارٹی، بی جے پی سے اتحاد پر کہی یہ بڑی بات

    کانگریس سے ناراض کیپٹن امریندر سنگھ بنائیں گے نئی پارٹی، بی جے پی سے اتحاد پر کہی یہ بڑی بات

    کانگریس سے ناراض کیپٹن امریندر سنگھ بنائیں گے نئی پارٹی، بی جے پی سے اتحاد پر کہی یہ بڑی بات

    کانگریس سے مسلسل ناراض چل رہے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر بھی اہم بات کہی۔

    • Share this:
      چندی گڑھ: پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ (Captain Amarinder Singh) نے نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کے میڈیا مشیر روین ٹھکرال نے منگل کو سلسلے وار ٹوئٹ کرکے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے حوالے سے لھا، ’پنجاب اور اس کے لوگوں جس میں کسان بھی شامل ہیں کہ بھلائی کے لئے جلد ہی اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کروں گا‘۔

      روین ٹھکرال نے مزید لکھا، ’اگر کسان آندولن کسانوں کی بھلائی کے ساتھ حل ہوجاتا ہے تو میں 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کے ساتھ سیٹوں کو لے کر رضامندی پر بات کروں گا۔ ساتھ ہی ایک جیسی سوچ والی پارٹیاں جیسے اکالی گروپ، خاص طور پر ڈھینڈسا اور برہم پورہ کے ساتھ سیٹوں کی صورتحال پر بات کی جائے گی‘۔

      وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد کیپٹن امریندر سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی اور نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اشارہ دیا تھا۔
      وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد کیپٹن امریندر سنگھ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی اور نئی سیاسی پارٹی بنانے کا اشارہ دیا تھا۔


      پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے میڈیا مشیر روین ٹھکرال نے ٹوئٹ کیا، ’جب تک میں اپنے لوگوں اور اپنی ریاست کے مستقبل کو محفوظ نہیں کرلیتا تب تک آرام نہیں کروں گا۔ پنجاب کو سیاسی استحکام اور داخلی اور باہری خطرات سے سیکورٹی کی ضرورت ہے‘۔

      واضح رہے کہ پنجاب کانگریس میں طویل رسہ کشی کے بعد کیپٹن امریندر سنگھ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ان کی جگہ چرنجیت سنگھ چنی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ استعفیٰ دینے کے بعد امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ وہ اپنی الگ راہ اپنے کارکنان سے بات چیت کے بعد طے کریں گے۔ اس دوران انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو پر جم کر تنقید کی تھی۔ انہوں نے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی پر حملہ بولا تھا۔ مانا جا رہا ہے کہ امریندر سنگھ کے اس فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی انتخابات دلچسپ ہوسکتا ہے۔ امریندر سنگھ کی نئی پارٹی (Captain Amarinder to Float New Party) کے اعلان کے بعد پنجاب میں سیاسی ہلچل بڑھنی طے ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: