ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

Third Wave of Covid-19:کورونا کی تیسری لہرکےخدشات،ویکسین سے ہم کیسے رہیں گے محفوظ؟

مرکزی حکومت نے کووی شیلڈ کے لئے 12 سے 16 ہفتوں کے وقفے کی سفارش کی ہے ، جبکہ اس کوویکسین کے لئے 4 تا 6 ہفتہ اور اسپوتنک وی کے لئے 21 تا 90 دن ہیں۔ ایک شخص پہلی خوراک لینے کے بعد مکمل طور پر کورونا سے محفوظ نہیں رہے گا۔

  • Share this:
Third Wave of Covid-19:کورونا کی تیسری لہرکےخدشات،ویکسین سے ہم کیسے رہیں گے محفوظ؟
علامتی تصویر

عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے خلاف روزانہ لاکھوں افراد کو ویکسین کی خوراک دی جارہی ہے۔ جس کی مجموعی تعداد 21.58 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہندوستان نے اس وقت ملک میں استعمال کے لیے تین کووڈ۔19 ویکسینوں کی منظوری دے دی ہے۔ جن میں سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے کووی شیلڈ (Covishield)، بھارت بایوٹیک کی کوویکسین (Covaxin ) اور روس کے اسپوتنک وی (Sputnik V) شامل ہے۔ لیکن موخر الذکر کہیں بھی استعمال میں نہیں ہے۔ یہ سب کے سبب دو خوراکوں پر مبنی ویکسین ہے۔


مرکزی حکومت نے کووی شیلڈ کے لئے 12 سے 16 ہفتوں کے وقفے کی سفارش کی ہے ، جبکہ اس کوویکسین کے لئے 4 تا 6 ہفتہ اور اسپوتنک وی کے لئے 21 تا 90 دن ہیں۔ ایک شخص پہلی خوراک لینے کے بعد مکمل طور پر کورونا سے محفوظ نہیں رہے گا۔ اسی دوران ملک کی کئی ریاستوں میں عام شہریوں کے لیے کووڈ۔19 ویکیسن کی دوسری خوراک دستیاب نہیں ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ یہ استثنیٰ کب تک چلتا ہے؟ اس بارے میں نیوز 18 کی یہ تفصیلی رپورٹ ملاحظہ کیجیے۔


ویکسی نیشن پروگرام کی فائل فوٹو
ویکسی نیشن پروگرام کی فائل فوٹو


ویکسین لینے کے بعد قوت مدافعت کے لیے کتنا وقت لگے گا؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈاکٹر کیترین اوبرائن (World Health Organisation’s Dr Katherine O’Brien) کا کہنا ہے کہ پہلی خوراک کے بعد قوت مدافعت کا ایک اچھا ردعمل قریب دو ہفتوں میں سامنے آتا ہے۔ لیکن مدافعتی ردعمل میں اضافہ دوسری خوراک کے بعد ہوتا ہے ، جس سے کسی شخص کی قوت مدافعت اور بھی مستحکم ہوتی ہے۔

کتنی دیر بعد قوت مدافعت ختم ہوتی ہے؟
سائنس دانوں کے مطابق دونوں خوراکوں کے بعد بھی قوت مدافعت کتنی دیر تک برقرار رہتی ہے، ابھی نہیں معلوم ہوسکیا ہے۔ ڈاکٹر کیترین کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ ویکسین لینے کے بعد قوت مدافعت کتنی دیر تک برقرار رہتی ہے اور مزید کہتے ہیں کہ تفصیلات جاننے میں ابھی کچھ وقت درکار ہے۔

"ہم ان لوگوں کی پیروی کر رہے ہیں جنھوں نے ویکسین حاصل کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا ان کا مدافعتی ردعمل وقت کے ساتھ پائیدار ہے اور جس کی وجہ سے وہ اس مرض سے محفوظ ہیں۔ لہذا ہمیں یہ معلوم کرنے کے لئے واقعی انتظار کرنا پڑے گا کہ یہ ویکسین کتنی دیر تک چلتی ہے‘‘۔

تاہم جو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ فائزر ویکسین کی دو خوراک کم از کم چھ ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک موثر رہتی ہے۔ اسی طرح موڈرنا ویکسین میں بھی دوسرے شاٹ کے چھ ماہ بعد اینٹی باڈیز پائی گئیں۔

ہندوستان میں کووی شیلڈ ویکسین کے انتظام کے ساتھ مدافعتی ردعمل جو ایک سال یا زیادہ سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس مرحلے پر ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے لیکن آکسفورڈ CHAdOx1 ٹکنالوجی کا استعمال کرنے والی دیگر ویکسینز مدافعتی ردعمل کو ثابت کرتی ہیں جو ایک سال یا زیادہ سال تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
کیا نئی اقسام میں کمی واقع ہوتی ہے؟

چونکہ پوری دنیا میں اور ہندوستان میں بھی نئی مختلف حالتوں کا پتہ چلا ہے ، ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ہندوستان میں پہلی بار B.1.617.1 اور B.1.617.2 سمیت مختلف اقسام کے خلاف ویکسین کی افادیت کا پتہ چلا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دو خوراک کے بعد تیسرا بوسٹر شاٹ درکار ہے۔




ہندوستان میں کو ویکسین تیار کرنے والی کمپنی بھارت بائیوٹیک نے بوسٹر ڈوج کے لئے پہلے ہی ٹرائل شروع کردیئے ہیں۔ اس بوسٹر خوراک کو چھ ماہ بعد دیا جانا ہے جس کے شرکاء کو آزمائش میں دوسری خوراک موصول ہوئی تھی، جو ستمبر اور اکتوبر 2020 کے درمیان ہوئی تھی۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 01, 2021 02:01 PM IST