ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

SC on Farmers Protest: تین زرعی قوانین پر ساڑھے تین ماہ بعد لگا بریک- سپریم کورٹ میں سماعت کی 10 اہم باتیں

کسان آندولن اور حکومت کے ساتھ کسانوں کے تعطل کو حل کرنے کے لئے عدالت نے 4 اراکین کی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ جتیندر سنگھ مان (بھارتیہ کسان یونین)، ڈاکٹر پرمود کمار جوشی (انٹرنیشنل پالیسی ہیڈ)، اشوک گلاٹی (زرعی ماہر) اور انل شیتکاری (شیتکاری سنگٹھن، مہاراشٹر) اس کمیٹی کے رکن ہیں۔

  • Share this:
SC on Farmers Protest: تین زرعی قوانین پر ساڑھے تین ماہ بعد لگا بریک- سپریم کورٹ میں سماعت کی 10 اہم باتیں
تین زرعی قوانین پر ساڑھے تین ماہ بعد لگا بریک- سپریم کورٹ میں سماعت کی 10 اہم باتیں

نئی دہلی: مودی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ (Supreme Court) میں منگل کو مسلسل دوسرے دن سماعت ہوئی۔ ان تین قوانین پر ساڑھے تین ماہ بعد بریک لگ گیا ہے۔ عدالت نے فی الحال تین زرعی قوانین کے عمل پر روک لگا دی ہے۔ کسان آندولن اور حکومت کے ساتھ کسانوں کے تعطل کو حل کرنے کے لئے عدالت نے 4 اراکین کی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ جتیندر سنگھ مان (بھارتیہ کسان یونین)، ڈاکٹر پرمود کمار جوشی (انٹرنیشنل پالیسی ہیڈ)، اشوک گلاٹی (زرعی ماہر) اور انل شیتکاری (شیتکاری سنگٹھن، مہاراشٹر) اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ زرعی قوانین کی واپسی کو لے کر پورے ملک کے کسان دہلی کے الگ الگ بارڈر پر 49 دن سے آندولن کر رہے ہیں۔


اس سے قبل بحث کے دوران پٹیشنر وکیل ایم ایل شرما نے کہا- ’سپریم کورٹ کی طرف سے بنائی جانے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے کسانوں نے انکار کردیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کئی لوگ چرچا کے لئے آ رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم سامنے نہیں آ رہے ہیں’۔ اس پر چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا- ’ہم انہیں نہیں بول سکتے، اس معاملے میں وہ پارٹی نہیں ہیں‘۔


مودی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ (Supreme Court) میں منگل کو مسلسل دوسرے دن سماعت ہوئی۔ ان تین قوانین پر ساڑھے تین ماہ بعد بریک لگ گیا ہے۔
مودی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین (New Farm Laws) کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ (Supreme Court) میں منگل کو مسلسل دوسرے دن سماعت ہوئی۔ ان تین قوانین پر ساڑھے تین ماہ بعد بریک لگ گیا ہے۔


آئیے جانتے ہیں آج کی کسان آندولن پر سپریم کورٹ میں آج کی سماعت کی 10 بڑی باتیں

چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے کہا کہ جو وکیل ہیں، انہیں عدالتی عمل کا احترام کرنا چاہئے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جب حکم ٹھیک نہ لگے تو قبول نہ کریں۔ ہم اسے زندگی موت کے معاملے کی طرح نہیں دیکھ رہے۔ ہمارے سامنے قانون کی قانونی حیثیت کا سوال ہے۔ قانون کے عمل کو ملتوی کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ لوگ باقی مسئلے کمیٹی کے سامنے اٹھا سکتے ہیں۔ سی جے آئی نے کہا کہ اگر بغیر کسی حل کے آپ کو احتجاج کرنا ہے، تو آپ غیر معینہ مدت تک احتجاج کرتے رہئے، لیکن کیا اس سے کچھ ملے گا؟ اس سے حل نہیں نکلے گا۔ ہم حل نکالنے کے لئے ہی کمیٹی بنانا چاہتے ہیں۔

کمیٹی کو لے کر سپریم کورٹ نے واضح کیا، ’یہ کمیٹی ہمارے لئے ہوگی۔ اس موضوع سے جڑے لوگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ کمیٹی کوئی حکم نہیں دے گی، نہ ہی کسی کو سزا دے گی۔ یہ صرف ہمیں رپورٹ سونپے گی۔ ہمیں زرعی قوانین کی قانونی حیثیت کی فکر ہے۔ ساتھ ہی کسان آندولن سے متاثر لوگوں کی زندگی اور جائیداد کی بھی فکر کرتے ہیں۔
کمیٹی کو لے کر سپریم کورٹ نے کہا، ’ہم اپنی سرحدوں میں رہ کر موضوع کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سیاست نہیں ہے۔ سیاست اور جوڈیشیری میں فرق ہے۔ آپ کو کو-آپریٹ کرنا ہوگا’۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پھر کہا، ’ہم زرعی قانون کا عمل ملتوی کریں گے، لیکن غیر معینہ مدت کے لئے نہیں۔ ہمارا مقصد صدرف مثبت ماحول بنانا ہے۔ اس طرح کی منفی بات نہیں ہونی چاہئے، جیسی ایم ایل شرما نے آج سماعت کے دوران شروع میں کی۔ کسانوں کے وکیل شرما نے کہا تھا کہ کسان کمیٹی کے پاس نہیں جائیں گے، قانون منسوخ ہونا چاہئے۔


 عدالت نے کہا کہ ’اگر کسان حکومت کے سامنے جاسکتے ہیں تو کمیٹی کے سامنے کیوں نہیں؟ اگر وہ پریشانی کا حل چاہتے ہیں تو ہم یہ نہیں سننا چاہتے کہ کسان کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

عدالت نے سختی دکھاتے ہوئے کہا، ’کوئی بھی طاقت، ہمیں زرعی قانون کے خوبی اور کمی کے تجزیہ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل کرنے سے نہیں روک سکتی۔ یہ کمیٹی عدالتی عمل کا حصہ ہوگی’۔ کمیٹی یہ بتائے گی کہ کن التزام کو ہٹایا جانا چاہئے۔

پی ایس نرسمہا نے عدالت کو بتایا کہ ممنوعہ تنظیمیں بھی احتجاج کو شہہ دے رہی ہیں۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں معلوم کرکے بتاوں گا۔ اس کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ آپ کل تک اس پر حلف نامہ دیجئے۔ آپ اس پہلو پر کل تک جواب دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنے حکم میں کہیں گے کہ کسان دہلی کے پولیس کمشنر سے رام لیلا میدان یا کسی اور جگہ پر احتجاج کے لئے اجازت مانگیں۔ ریلی کے لئے ایڈمنسٹریشن کو درخواست دی جاتی ہے۔ پولیس شرط رکھتی ہیں، عمل نہ کرنے پر اجازت منسوخ کرتی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنے حکم میں کہیں گے کہ کسان دہلی کے پولیس کمشنر سے رام لیلا میدان پر یا کسی اور جگہ پر احتجاج کے لئے اجازت مانگیں۔ ریلی کے لئے ایڈمنسٹریشن کو درخواست دی جاتی ہے۔ پولیس شرط رکھتی ہے، عمل نہ کرنے پر اجازت منسوخ کرتی ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 12, 2021 05:15 PM IST