உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب کانگریس میں شدید اختلافات، وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف پیش ہوسکتی ہے عدم اعتماد کی تحریک

    پنجاب کانگریس میں شدید اختلافات، وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف پیش ہوسکتی ہے عدم اعتماد کی تحریک

    پنجاب کانگریس میں شدید اختلافات، وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف پیش ہوسکتی ہے عدم اعتماد کی تحریک

    Punjab Congress Rifr: کانگریس کی یہ میٹنگ 40 اراکین اسمبلی کے ذریعہ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھنے کے ایک بعد بلائی گئی ہے۔ ان اراکین اسمبلی نے خط میں 2022 کے آغاز میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے کے لئے سی ایل پی کی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      چنڈی گڑھ: پنجاب کانگریس کے انچارج ہریش راوت کی طرف سے جمعہ کی دیرشب کئے گئے ٹوئٹ نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ہفتہ کی شام پانچ بجے چنڈی گڑھ میں پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر میں کانگریس اراکین اسمبلی (Punjab Congress) کی میٹنگ ہوگی۔ ذرائع کے مطابق، کیپٹن امریندر سنگھ (Captain Amrinder Singh) مخالف گروپ آج قانون ساز کونسل کی میٹنگ میں کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری میں ہے۔ وہیں کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی اپنے ساتھی اراکین اسمبلی کی میٹنگ میں اپنے سسواں فارم ہاوس میں مدعو کرلیا ہے۔

      آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور پنجاب کے انچارج ہریش راوت (Harish Rawat) نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر دیر رات اعلان کیا، ‘اے آئی سی سی کو کانگریس پارٹی کی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی سے ایک وفد ملا ہے، جس میں پنجاب کے کانگریس قانون ساز کونسل کی فوراً میٹنگ بلانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس لئے پنجاب کانگریس کمیٹی کے دفتر میں 18 ستمبر کو شام 5 بجے سی ایل پی کی میٹنگ بلائی گئی ہے‘۔

      ہریش راوت نے کہا کہ کانگریس اعلیٰ کمان نے پی پی سی سی کو میٹنگ کو آسان بنانے کا حکم دیا ہے۔ ہریش راوت نے کہا، ’پنجاب کے سبھی کانگریس اراکین اسمبلی سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اس میٹنگ میں شامل ہوں‘۔ کچھ منٹ بعد، پنجاب کانگریس صدر نوجوت سنگھ سدھو نے بھی میٹنگ کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ’اے آئی سی سی کے حکم کے مطابق، پی پی سی سی دفتر میں کانگریس اراکین اسمبلی کی میٹنگ بلائی گئی ہے‘۔



      یوں تو کانگریس قانون ساز کونسل کی اس میٹنگ کا ایجنڈا تو عوامی نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ میٹنگ پنجاب کانگریس کے 40 اراکین اسمبلی کے ذریعہ پارٹی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھنے کے ایک دن بعد بلائی گئی ہے۔ ان اراکین نے خط میں 2022 کے آغاز میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے سی ایل پی کی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اراکین اسمبلی نے خط کے ذریعہ پارٹی صدر کو یہ بھی بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو دیئے گئے پارٹی اعلیٰ کمان کے 18 نکاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

      کیپٹن امریندر سنگھ کی طرف سے اس حادثہ پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔ وہیں ذرائع نے کہا کہ ہریش راوت کے علاوہ دہلی سے پارٹی کے دو آبزرور ہریش چودھری اور اجے ماکن کی میٹنگ میں شامل ہونے کی امید ہے۔ ہریش چودھری کانگریس کے سابق راہل گاندھی کے بے حد قریبی اور راجستھان کابینہ میں وزیر ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ریاست کے چار وزرا اور دیگر اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کے خلاف نااتفاقی کی آواز اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ انہیں اب اس بات کا بھروسہ نہیں ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ میں ادھورے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: