உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jharkhand:سیاسی بحران کے درمیان سورین کل پیر کو حاصل کریں گے اعتماد کا ووٹ،آج بی جے پی لیجسلیچرپارٹی کی ہوگی میٹنگ

    Jharkhand:سیاسی بحران کے درمیان سورین کل پیر کو حاصل کریں گے اعتماد کا ووٹ،آج بی جے پی لیجسلیچرپارٹی کی ہوگی میٹنگ

    Jharkhand:سیاسی بحران کے درمیان سورین کل پیر کو حاصل کریں گے اعتماد کا ووٹ،آج بی جے پی لیجسلیچرپارٹی کی ہوگی میٹنگ

    بتادیں کہ منافع بخش عہدے کے معاملے میں سورین کو اسمبلی سے نااہل ٹھہرانے کی بی جے پی کی درخواست کے بعد، الیکشن کمیشن (ای سی) نے 25 اگست کو گورنر رمیش بیس کو اپنا فیصلہ بھیجا تھاریاست میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Ranchi, India
    • Share this:
      رانچی: جھارکھنڈ کےو زیراعلیٰ کے رکن اسمبلی طور پر بنے رہنے کو لے کر جاری رسہ کشی کے درمیان ہیمنت سورین کل پیر کو اسمبلی کے خصوصی سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے تجویز رکھیں گے۔ ایک عہدیدار نے یہ جانکاری دی۔ اسمبلی سکریٹریٹ کی جانب سے ارکان اسمبلی کو بھیجے گئے مکتوب کے مطابق، وزیراعلیٰ نے اکثریت ثابت کرنے کے لئے اعتماد کا ووٹ لانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

      آج بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ
      پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ایوان میں اپنی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اتوار کو مقننہ پارٹی کی میٹنگ بلائی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر عالمگیر عالم نے کہا کہ "جھارکھنڈ میں غیر یقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے، ہمارے وفد نے جمعرات کو گورنر سے ملاقات کی تھی اور انہوں نے ہمیں ایک دو دن میں صورتحال صاف کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔" اس لئے ہم اسمبلی میں اپنی بات رکھیں گے اور اپنی اکثریت ثابت کریں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Haryana News: مہرشی دیانند یونیورسٹی کے گیٹ پر تابڑتوڑ فائرنگ، گولی لگنے سے چار طلبہ زخمی

      یہ بھی پڑھیں:

      راہل گاندھی ضد چھوڑ کر لڑیں گے Congress صدر عہدے کا الیکشن؟قریبی نے کیا یہ بڑا دعویٰ

      25 اگست کو ہی ای سی نے بھیجا تھا اپنا فیصلہ
      بتادیں کہ منافع بخش عہدے کے معاملے میں سورین کو اسمبلی سے نااہل ٹھہرانے کی بی جے پی کی درخواست کے بعد، الیکشن کمیشن (ای سی) نے 25 اگست کو گورنر رمیش بیس کو اپنا فیصلہ بھیجا تھاریاست میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ابھی سرکاری طور پر نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کو بطور ایم ایل اے نااہل قرار دینے کی سفارش کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: